Skip to main content

Posts

سعادت حسن منٹو

زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزررہے ہیں ، اگر آپ اس سے ناواقف ہیں ،تو میرے افسانے پڑھئے ۔ اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ زمانہ ناقابلِ برداشت ہے۔ مجھ میں جو برائیاں ہیں،وہ اس عہد کی برائیاں ہیں ۔ میری تحریر میں کوئی نقص نہیں ، جس نقص کو میرے نام سے منسوب کیا جاتا ہے ، در اصل موجودہ نظام کا نقص ہے۔‘‘ " سعادت حسن منٹو"

شوہر

مولانا محمد علی جوہر، مولانا ذوالفقار علی خان گوہر اور شوکت علی تین بھائی تھے. شوکت صاحب منجھلے تھے، انھوں نے چوبیس پچیس سال کی عمر میں شادی کر لی. ایک دن ایک تقریب میں اخبار نویسیوں نے مولانا شوکت علی کو گھیر لیا اور ان سے پوچھا کہ آپ کے بڑے بھائی "گوہر" ہیں، اور آپ کے چھوٹے بھائی "جوہر" ہیں. آپ کا کیا تخلص ہے؟ مولانا شوکت علی فورا بولے: "شوہر۔   

اے نئے سال بتا، تُجھ ميں نيا پن کيا ہے

اے نئے سال بتا، تُجھ ميں نيا پن کيا ہے؟ ہر طرف خَلق نے کيوں شور مچا رکھا ہے روشنی دن کی وہي تاروں بھري رات وہی آج ہم کو نظر آتي ہے ہر ايک بات وہی آسمان بدلا ہے افسوس، نا بدلی ہے زميں ايک ہندسے کا بدلنا کوئي جدت تو نہيں اگلے برسوں کی طرح ہوں گے قرينے تيرے کسے معلوم نہيں بارہ مہينے تيرے جنوري، فروري اور مارچ ميں پڑے گي سردي اور اپريل، مئي اور جون ميں ہو گي گرمي تيرا مَن دہر ميں کچھ کھوئے گا کچھ پائے گا اپنی ميعاد بَسر کر کے چلا جائے گا تو نيا ہے تو دکھا صبح نئي، شام نئی ورنہ اِن آنکھوں نے ديکھے ہيں نئے سال کئی بے سبب لوگ ديتے ہيں کيوں مبارک باديں غالبا بھول گئے وقت کی کڑوي ياديں تيری آمد سے گھٹی عمر جہاں سے سب کی فيض نے لکھی ہے يہ نظم نرالے ڈھب کی

تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

ایک بادشاہ نے چار آدمی طلب کئے ان میں سے ایک عالم تھا ، دوسرا عاشق تھا ، تیسرا نابینا تھا اور چوتھا غریب تھا ، بادشاہ نے ان چاروں سے کہا کہ میرے دماغ میں ایک مصرعہ آیا ہے تم لوگ اسکو مکمل کرو ، مصرعہ یہ ہے: ( اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں ) چاروں نے تھوڑا سوچ بچار کیا اور اپنے اپنے حساب سے شعر بنائے جو کچھ یوں تھے ۔ عالم : بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں عاشق : ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں نابینا : ہم میں بینائی نہیں اور اس میں گویائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں غریب : مانگتے پیسے مصور جیب میں پائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

ميں سكون چاہتا ہوں

كسى نــے ايك بزرگ ســے كہا "ميرے پاس دنيا جہان كى نعمتيں ہيں مگر مجهــے بــے چينى اور بــے سكونى سى رهتى هـــے" بزرگ نــے پوچها "پهر كيا چاهتــے ہو" وه بولا "ميں سكون چاہتا ہوں" تو بزرگ نــے جواب ديا كہ اپنــے اس جملــے ســے "ميں" نكال دو كيونكــہ يہ فخر و تكبر كى علامت هـــے اور "چاہتا ہوں" بهى نكال دو كيونكــہ يہ نفسانى خواهشات كا نام هـــے. پيچهــے تمہارے پاس صرف "سكون" ہى بچ جاۓ گا اور پهر سكون ہى سكون ہوگا.

ضمیر جعفری - چوبیس برس کی فردِ عمل

چوبیس برس کی فردِ عمل، ہر دل زخمی ہر گھر مقتل اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم قیدی شیرو، زخمی بیٹو! دُکھیا ماؤں! اُجڑی بہنو! ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، ہم تُم سے بہت شرمندہ ہیں اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم ہم حرص و ہوا کے سوداگر، بیچیں کھالیں انسانوں کی بُجھتے رہے روزن آنکھوں کے، بڑھتی رہی ضو ایوانوں کی جلتی راہو! اُٹھتی آہو! گھائل گیتو! بِسمل نغمو! ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم افکار کو ہم نیلام کریں، اقدار کا ہم بیوپار کریں اِن اپنے منافق ہاتھوں سے خود اپنا گریباں تار کریں ٹُوٹے خوابو! کُچلے جذبو! روندی قدرو! مَسلی کلیو! ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم ہم نادیدے ناشُکروں نے ہر نعمت کا کُفران کیا ایک آدھ سنہری چھت کے لئے، کُل بستی کو ویران کیا سُونی گلیو! خُونی رستو! بچھڑے یارو! ڈُوبے تارو! ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے ق...

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بینک اکاونٹ

27 Jan 2014 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بینک اکاونٹ کیا آپ کو معلوم ہے کہ سعودی عرب کے ایک بینک میں خلیفہء سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا آج بھی کرنٹ اکاونٹ ہے۔یہ جان کر آپ کو حیرت ہو گی کہ مدینہ منورہ کی میونسپلٹی میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر باقاعدہ جائیداد رجسٹرڈ ہے ۔آج بھی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر بجلی اور پانی کا بل آتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ مسجد نبوی کے پاس ایک عالی شان رہائشی ہوٹل زیر تعمیر جس کا نام عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوٹل ہے ؟؟ تفصیل جاننا چاہیں گے ؟؟ یہ وہ عظیم صدقہ جاریہ ہے جو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صدق نیت کا نتیجہ ہے۔ جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے تو وھاں پینے کے صاف پانی کی بڑی قلت تھی۔ ایک یہودی کا کنواں تھا جو مسلمانوں کو پانی مہنگے داموں فروخت کرتا تھا۔ اس کنویں کا نام "بئر رومہ" یعنی رومہ کنواں تھا۔۔ مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی اور اپنی پریشانی سے آگاہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کون ہے ج...

اک تیرے نہ ہونے سے

اک تیرے نہ ہونے سے یوں تو کچھ نہیں ہوتا پھول پھر بھی کھلتے ہیں چاندنی تو آنگن میں آج بھی اترتی ہے میں بھی یوں تو زندہ ہوں سانس بھی چلتی ہے روز و شب گزرتے ہیں عمر ڈھلتی رہتی ہے اک تیرے نہ ہونے سے یوں تو کچھ نہیں ہوتا کچھ کمی سی رہتی ہے آنکھ کے کناروں پر کچھ نمی سی رہتی ہے اک تیرے نہ ہونے سے اور کچھ نہیں ہوتا تشنگی سی رہتی ہے

کاش میں تیرے بن گوش کا بندا ہوتا

مجید امجد نے آج سے تقریباً پچاس سال قبل یہ مشہور زمانہ نظم لکھی تھی۔ جس کا بھونڈا چربہ وصی شاہ نے "کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا" کے عنوان سے تیار کیا ہے۔ فرق محسوس کیجیے۔ کاش میں تیرے بن گوش کا بندا ہوتا رات کو بے خبری میں جو مچل جاتا میں تو ترے کان سے چپ چاپ نکل جاتا میں صبح کو گرتے تری زلفوں سے جب باسی پھول میرے کھو جانے پہ ہوتا ترا دل کتنا ملول تو مجھے ڈھونڈتی کس شوق سے گھبراہٹ میں اپنے مہکے ہوئے بستر کی ہر اک سلوٹ میں جونہی کرتیں تری نرم انگلیاں محسوس مجھے ملتا اس گوش کا پھر گوشہ مانوس مجھے کان سے تو مجھے ہر گز نہ اتارا کرتی تو کبھی میری جدائی نہ گوارا کرتی یوں تری قربت رنگیں کے نشے میں مدہوش عمر بھر رہتا مری جاں میں ترا حلقہ بگوش کاش میں تیرے بن گوش کا بندا ہوتا کلام: مجید امجد

ﻭﻗﺖ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮨﮯ

ﻭﻗﺖ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮨﮯ __ ﺁﮨﭧ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ - ﺁﭖ ﻭﮨﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﯾﺎ ﺷﺎﯾﺪ ﺁﭖ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﻮ ... ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮐﮭﮍﺍ ﺭﮨﺘﺎ ﮬﮯ "  - ﺭﺍﮐھ  - ﻣﺴﺘﻨﺼﺮ ﺣﺴﯿﻦ ﺗﺎﺭﮌ -

منافق

زندگی اور عقیدے میں فاصلہ رکھنے والا انسان منافق ہوتا ہے۔ ایسا شخص نہ گناہ چھوڑتا ہے نہ عبادت۔ اﷲ اُس کی سماجی یا سیاسی مجبوری ہوتا ہے، دینی نہیں۔ ایسے آدمی کے لیے مایوسی اور کربِ مسلسل کا عذاب ہوتا ہے۔ جو بے ضرر ہوگیا ‘ وہ فقیر ہوگیا… اور جو منفعت بخش ہوگیا وہ اللہ کا دوست ہوگیا. واصف علی واصف -

مٹھائی

ایک آدمی نے مٹھائی کی دوکان کھولی اور بورڈ پر لکھوایا۔ “ہماری دوکان سے تمام محلے والے مٹھائی خریدتے ہیں“۔ اگلے دن اس کی دوکان کے سامنے دوسرے آدمی نے بھی مٹھائی کی دوکان کھولی اور بورڈ پر لکھوادیا “ہماری دکان سے شہر بھر کے لوگ مٹھائی خریدتے ہیں“۔ پہلے دکاندار نے پھر نیا بورڈ لگوایا “ہماری دکان سے پورے ضلعے کے لوگ مٹھائی خریدنے آتے ہیں“- اس جملے کے جواب میں سامنے والے نے لکھوایا۔ “ہماری دکان سے پوری ڈویژن کے لوگ مٹھائی خریدتے ہیں“ یہ دیکھ کر پہلے دکاندار نے نیا بورڈ لکھوایا۔ “یہ سامنے والہ میری دکان سے مٹھائی لیکر فروخت کرتا ہے“

بڑے نادان ہوتے تھے

وہ پچھلی بارشوں میں ہم بڑے نادان ہوتے تھے۔۔ سب کی آنکھ سے بچ کر پرانی کاپیوں سے ہم ورق کچھ نوچ لیتے تھے۔۔ ہم اِک کشتی بناتے تھے۔۔ وہ پانی پر چلاتے تھے۔۔ ہمیں لگتا تھـا جـیسے ہم اُسـی کشتی میں بـیٹھے ہیں۔۔ وہ کشتی ڈوب جاتی تھی تو ہـم بھی ڈوب جـاتے تھے۔۔ وہ کشتی پـار لگتی تھی تو ہـم بھی پـار لگتے تھے۔۔ چـلو گزرے ہوئـے کل کے وہ پـل پھر ڈھـونـڈ لاتے ہیں۔۔ پرانی کـاپیـاں لے کر۔۔ نئـی کشتـی بناتـے ہیں۔۔ وہ پانی پر چلاتے ہیں۔۔ چـلو پِھـر پـار لگتـے ہیں۔۔ چـلو پِھـر ڈوب جـاتـے ہیں-

آوازِ دوست

یہ بھلا کہاں ضروری ہے کہ بڑا آدمی تمام عمر بڑا ہی رہے۔ بعض آدمیوں کی زندگی میں بڑائی کا صرف ایک دن آتا ہے اور اس کے ڈھلنے کے بعد ممکن ہے کہ ان کی باقی زندگی اس بڑائی کی نفی میں ہی بسر ہو جائے۔ بدی اور نیکی کے درمیان صرف ایک قدم کا فاصلہ ہے۔ ایک قدم پیچھے ہٹ جائیں تو ننگِ کائنات، ایک قدم آگے بڑھ جائیں تو اشرف المخلوقات۔ درمیان میں ٹھہر جائیں تو محض ہجومِ آبادی۔ ۔ ۔ - آوازِ دوست-از: مختار مسعود  -

چڑیا گھر

ایک دفعہ میں ایک دوست کے ساتھ چڑیا گھر گیا ۔ بندر کے پنجرے میں دیکھا کہ وہ اپنی بندریا سے چمٹا محبت کی اعلیٰ تفسیر بنا بیٹھا تھا۔ تھوڑا آگے جا کرشیر کے پنجرے کے پاس سے گزر ہوا تو معاملہ الٹ تھا، شیر اپنی شیرنی سے منہ دوسری طرف کیے خاموش بیٹھا تھا۔ میں نے دوست سے کہا کہ بندر کو اپنی مادہ سے کتنا پیار ہے اور یہاں کیسی سرد مہری ہے؟ دوست نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور کہا؛ اپنی خالی بوتل شیرنی کو مارو۔ میں نے بوتل پھینکی تو شیر اچھل کر درمیان میں آگیا۔ شیرنی کے دفاع میں اس کی دھاڑتی ہوئی آواز کسی تفسیر کی طالب نہ تھی۔ میں نے ایک بوتل جا کر بندریا کو بھی ماری یہ دیکھنے کے لیے کہ بندر کا ردعمل کیا ہوتا ہے، بوتل اپنی طرف آتے دیکھ کر بندر اپنی مادہ کو چھوڑ کر اپنی حفاظت کیلئے اچھل کر کونے میں جا بیٹھا۔ میرے دوست نے کہا کہ کچھ لوگ شیر کی طرح ہی ہوتے ہیں؛ ان کی ظاہری حالت پر نہ جانا، ان کے پیاروں پر بن پڑے تو اپنی جان لڑا دیا کرتے ہیں، مگر ان پر آنچ نہیں آنے دیتے۔ اور کچھ لوگ جو ظاہرا" بہت محبت جتاتے ہیں۔ لیکن وقت آنے پر یوں آنکھیں پھیر لیتے ہیں جیسے کہ جانتے ہی نہ ہوں.

ہماری زبان سے نکلے ہوئے

ہماری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ ہماری شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں . اور یہی الفاظ ہمیں زمین سے بلندیوں پر اور بلندیوں سے زمین کی پستیوں میں گرا دیتے ہیں ...! آپ کا رویہ اور سلجھا ہوا تبصرہ کومنٹ آپ کی سلجھی ہوئی تربیت کو ظاہر کرتا ہے جبکہ غلط (غیر مناسب ، بیہودہ یا گندا ) کومنٹ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ کی تربیت میں کہیں کوئی بہت بڑی کمی رہ گئی ہے !!! اسلئے ہمیشہ سوچ سمجھ کر بولا کریں ! اور اگر اچھے خیالات کی آمد کم ہو تو لفظوں کی فضول خرچی سے بچیں ! بے شک کم بولو مگر اچھا بولو اور اگر کچھ اچھا بولنے کو نہ ہو تو زیادہ بہتر یہ ہے کہ چپ رہا جائے !!!

Jahez