Skip to main content

چڑیا گھر


ایک دفعہ میں ایک دوست کے ساتھ چڑیا گھر گیا ۔
بندر کے پنجرے میں دیکھا کہ وہ اپنی بندریا سے چمٹا محبت کی اعلیٰ تفسیر بنا بیٹھا تھا۔
تھوڑا آگے جا کرشیر کے پنجرے کے پاس سے گزر ہوا تو معاملہ الٹ تھا،
شیر اپنی شیرنی سے منہ دوسری طرف کیے خاموش بیٹھا تھا۔
میں نے دوست سے کہا کہ بندر کو اپنی مادہ سے کتنا پیار ہے اور یہاں کیسی سرد مہری ہے؟
دوست نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور کہا؛
اپنی خالی بوتل شیرنی کو مارو۔
میں نے بوتل پھینکی تو شیر اچھل کر درمیان میں آگیا۔
شیرنی کے دفاع میں اس کی دھاڑتی ہوئی آواز کسی تفسیر کی طالب نہ تھی۔
میں نے ایک بوتل جا کر بندریا کو بھی ماری یہ دیکھنے کے لیے کہ بندر کا ردعمل کیا ہوتا ہے،
بوتل اپنی طرف آتے دیکھ کر بندر اپنی مادہ کو چھوڑ کر اپنی حفاظت کیلئے اچھل کر کونے میں جا بیٹھا۔
میرے دوست نے کہا کہ کچھ لوگ شیر کی طرح ہی ہوتے ہیں؛
ان کی ظاہری حالت پر نہ جانا،
ان کے پیاروں پر بن پڑے تو اپنی جان لڑا دیا کرتے ہیں،
مگر ان پر آنچ نہیں آنے دیتے۔
اور کچھ لوگ جو ظاہرا" بہت محبت جتاتے ہیں۔
لیکن وقت آنے پر یوں آنکھیں پھیر لیتے ہیں جیسے کہ جانتے ہی نہ ہوں.

Comments

Popular posts from this blog

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں راز کے گہرے پردوں میں ہر شخص محبت کرتا ہے حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں سب جھوٹے رشتے ناتے ہیں سب دل رکھنے کی باتیں ہیں سب اصلی روپ چھپاتے ہیں احساس سے خالی لوگ یہاں لفظوں کے تیر چلاتے ہیں ایک بار نظروں میں آکر وہ پھر ساری عمر رلاتے ہیں یہ عشق محبت مہر و وفا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہر شخص خودی کی مستی میں بس اپنی خاطر جیتا ہے بس اپنی خاطر جیتا ہے

تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

ایک بادشاہ نے چار آدمی طلب کئے ان میں سے ایک عالم تھا ، دوسرا عاشق تھا ، تیسرا نابینا تھا اور چوتھا غریب تھا ، بادشاہ نے ان چاروں سے کہا کہ میرے دماغ میں ایک مصرعہ آیا ہے تم لوگ اسکو مکمل کرو ، مصرعہ یہ ہے: ( اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں ) چاروں نے تھوڑا سوچ بچار کیا اور اپنے اپنے حساب سے شعر بنائے جو کچھ یوں تھے ۔ عالم : بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں عاشق : ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں نابینا : ہم میں بینائی نہیں اور اس میں گویائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں غریب : مانگتے پیسے مصور جیب میں پائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

سعادت حسن منٹو

زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزررہے ہیں ، اگر آپ اس سے ناواقف ہیں ،تو میرے افسانے پڑھئے ۔ اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ زمانہ ناقابلِ برداشت ہے۔ مجھ میں جو برائیاں ہیں،وہ اس عہد کی برائیاں ہیں ۔ میری تحریر میں کوئی نقص نہیں ، جس نقص کو میرے نام سے منسوب کیا جاتا ہے ، در اصل موجودہ نظام کا نقص ہے۔‘‘ " سعادت حسن منٹو"