Skip to main content

Posts

ضمیر جعفری - چوبیس برس کی فردِ عمل

چوبیس برس کی فردِ عمل، ہر دل زخمی ہر گھر مقتل اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم قیدی شیرو، زخمی بیٹو! دُکھیا ماؤں! اُجڑی بہنو! ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، ہم تُم سے بہت شرمندہ ہیں اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم ہم حرص و ہوا کے سوداگر، بیچیں کھالیں انسانوں کی بُجھتے رہے روزن آنکھوں کے، بڑھتی رہی ضو ایوانوں کی جلتی راہو! اُٹھتی آہو! گھائل گیتو! بِسمل نغمو! ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم افکار کو ہم نیلام کریں، اقدار کا ہم بیوپار کریں اِن اپنے منافق ہاتھوں سے خود اپنا گریباں تار کریں ٹُوٹے خوابو! کُچلے جذبو! روندی قدرو! مَسلی کلیو! ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے قاتل ہم ہم نادیدے ناشُکروں نے ہر نعمت کا کُفران کیا ایک آدھ سنہری چھت کے لئے، کُل بستی کو ویران کیا سُونی گلیو! خُونی رستو! بچھڑے یارو! ڈُوبے تارو! ہم لوگ جو اب بھی زندہ ہیں، اس جینے پر شرمندہ ہیں اے ارضِ وطن ترے غم کی قسم، ترے دشمن ہم ترے ق...

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بینک اکاونٹ

27 Jan 2014 حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بینک اکاونٹ کیا آپ کو معلوم ہے کہ سعودی عرب کے ایک بینک میں خلیفہء سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا آج بھی کرنٹ اکاونٹ ہے۔یہ جان کر آپ کو حیرت ہو گی کہ مدینہ منورہ کی میونسپلٹی میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر باقاعدہ جائیداد رجسٹرڈ ہے ۔آج بھی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر بجلی اور پانی کا بل آتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ مسجد نبوی کے پاس ایک عالی شان رہائشی ہوٹل زیر تعمیر جس کا نام عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوٹل ہے ؟؟ تفصیل جاننا چاہیں گے ؟؟ یہ وہ عظیم صدقہ جاریہ ہے جو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صدق نیت کا نتیجہ ہے۔ جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے تو وھاں پینے کے صاف پانی کی بڑی قلت تھی۔ ایک یہودی کا کنواں تھا جو مسلمانوں کو پانی مہنگے داموں فروخت کرتا تھا۔ اس کنویں کا نام "بئر رومہ" یعنی رومہ کنواں تھا۔۔ مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی اور اپنی پریشانی سے آگاہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کون ہے ج...

اک تیرے نہ ہونے سے

اک تیرے نہ ہونے سے یوں تو کچھ نہیں ہوتا پھول پھر بھی کھلتے ہیں چاندنی تو آنگن میں آج بھی اترتی ہے میں بھی یوں تو زندہ ہوں سانس بھی چلتی ہے روز و شب گزرتے ہیں عمر ڈھلتی رہتی ہے اک تیرے نہ ہونے سے یوں تو کچھ نہیں ہوتا کچھ کمی سی رہتی ہے آنکھ کے کناروں پر کچھ نمی سی رہتی ہے اک تیرے نہ ہونے سے اور کچھ نہیں ہوتا تشنگی سی رہتی ہے

کاش میں تیرے بن گوش کا بندا ہوتا

مجید امجد نے آج سے تقریباً پچاس سال قبل یہ مشہور زمانہ نظم لکھی تھی۔ جس کا بھونڈا چربہ وصی شاہ نے "کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا" کے عنوان سے تیار کیا ہے۔ فرق محسوس کیجیے۔ کاش میں تیرے بن گوش کا بندا ہوتا رات کو بے خبری میں جو مچل جاتا میں تو ترے کان سے چپ چاپ نکل جاتا میں صبح کو گرتے تری زلفوں سے جب باسی پھول میرے کھو جانے پہ ہوتا ترا دل کتنا ملول تو مجھے ڈھونڈتی کس شوق سے گھبراہٹ میں اپنے مہکے ہوئے بستر کی ہر اک سلوٹ میں جونہی کرتیں تری نرم انگلیاں محسوس مجھے ملتا اس گوش کا پھر گوشہ مانوس مجھے کان سے تو مجھے ہر گز نہ اتارا کرتی تو کبھی میری جدائی نہ گوارا کرتی یوں تری قربت رنگیں کے نشے میں مدہوش عمر بھر رہتا مری جاں میں ترا حلقہ بگوش کاش میں تیرے بن گوش کا بندا ہوتا کلام: مجید امجد

ﻭﻗﺖ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮨﮯ

ﻭﻗﺖ ﮐﯿﺴﮯ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﮨﮯ __ ﺁﮨﭧ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ - ﺁﭖ ﻭﮨﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﯾﺎ ﺷﺎﯾﺪ ﺁﭖ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﻮ ... ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮐﮭﮍﺍ ﺭﮨﺘﺎ ﮬﮯ "  - ﺭﺍﮐھ  - ﻣﺴﺘﻨﺼﺮ ﺣﺴﯿﻦ ﺗﺎﺭﮌ -

منافق

زندگی اور عقیدے میں فاصلہ رکھنے والا انسان منافق ہوتا ہے۔ ایسا شخص نہ گناہ چھوڑتا ہے نہ عبادت۔ اﷲ اُس کی سماجی یا سیاسی مجبوری ہوتا ہے، دینی نہیں۔ ایسے آدمی کے لیے مایوسی اور کربِ مسلسل کا عذاب ہوتا ہے۔ جو بے ضرر ہوگیا ‘ وہ فقیر ہوگیا… اور جو منفعت بخش ہوگیا وہ اللہ کا دوست ہوگیا. واصف علی واصف -