Skip to main content

ذکر خفی قلبی : تصوف کا ایک اہم رکن


ذکر اللہ اگر اونچی آواز میں ہو تو اسے ذکر جہری کہتے ہیں اور اگر بغیر آواز کے ہو تو اسے ذکر خفی (چھپا ہوا) کہتے ہیں. اگر زبان سے ہو تو اسے ذکر لسانی کہتے ہیں اور اگر دل سے ہو تو اسے ذکر قلبی کہتے ہیں. قلبی ذکر چونکہ دل میں ہوتا ہے اس لیے یہ خفی بھی ہوتا ہے. ذکر خفی قلبی.

ذکر خواہ قلبی ہو یا زبانی, جہری ہو یا خفی, انفرادی ہو یا اجتماعی، اسکی فضیلت و اہمیت مسلم ہے۔ لیکن قرآن و حدیث کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ذکرِ خفی قلبی کی فضیلت بدرجہا ذکرِ زبانی سے زیادہ ہے. اس کی باقائدہ تاکید کی گئی ہے.

قران میں ارشاد ہے..
"اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو تمام مخلوق سے کٹ کر"
(سورت مزمل : آیت 8)

اس آیت میں مخلوق کے سامنے اللہ کا ذکر کرنے کا نہیں کہا گیا بلکہ مخلوق سے کٹ کر تنہای میں رب کے نام کا ذکر کرنے کا کہا گیا ہے. رب کا نام ہے اللہ. تو یہاں تنہائ میں اللہ اللہ کرنے کی طرف اشارہ ہے.

مزید ارشاد ہے کہ

’’الا بذکر اللہ تطمئن القلوب‘‘
’’سن لو! اللہ کے ذکر سے دل اطنینان پاتے ہیں۔‘‘
(سورت الرعد : آیت 28)

یہ آیات ذکر لسانی اور قلبی دونوں پر دلیل ہے, لیکن اطمینان دل کا ہے, قلبی.

اور حدیث پاک ہے کہ

"ہر چیز کا زنگ دور کرنے کے لیے صیقل ہوتا ہے ،یاد رکھو! دلوں کا زنگ دور کرنے کا صیقل اللہ کا ذکر ہے"۔
(الدعوات الکبیر للبیہقی)

تصوف میں ذکر قلبی کا رائج طریقہ
تصوف میں ذکر قلبی کو خاص اہمیت حاصل ہے. اللہ کے حکم "اور مخکوق سے کٹ کر اللہ کے نام کا ذکر کرو" کے مطابق تنہائ میں یکسوئ حاصل کر کے, زبان کے ذکر اور زہن کے دیہان کے ساتھ دل کو ذکر کرایا جاتا ہے.
بعض سلسلوں میں قلب کی حرکت "لب ڈھب" کے ساتھ دل کو "اللہ اللہ" پڑھایا جاتا ہے, اور بعض سلسلوں میں قلب پر "اللہ ہو" یا "اللہ" یا "لا الہ الا  اللہ" کی ضربیں لگائ جاتی ہیں جس سے دل رفتہ رفتہ اللہ اللہ پڑھنا شروع کر دیتا ہے. آہستہ آہستہ دل کو ذکر کی عادت ہو جاتی ہے اور پھر زبان کا ذکر  اگر رک جاۓ تو بھی دل ذکر کرتا رہتا ہے. اس کیفیت کو قلب جاری ہونا کہتے ہیں.

جب قلب جاری ہو جاۓ تو وہ شیطان کے وساوس سے محفوظ ہو جاتا ہے اور انوارات کی تجلیوں کا اہل ہو کر عجائب قدرت دیکھتا ہے.

 ذکر خفی قلبی پر کچھ مزید احادیث

امام احمد بن حنبل ، ابن حیان ، بیہقی وغیرہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کی روایت سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:

خَيْرُ الذِّكْرِ الْخَفِيُّ، وَخَيْرُ الرِّزْقِ مَا يَكْفِي
”بہترین ذکر خفی ہے، اور بہترین رزق وہ ہے جو انسان کے لئے کافی ہو جائے“(1)

اذْكُرُوا اللَّهَ تَعَالَى ذِكْرًا خَامِلًا» قَالَ: فَقِيلَ: وَمَا الذِّكْرُ الْخَامِلُ؟ قَالَ:الذِّكْرُ الْخَفِيُّ
”اللہ کویاد ذکرخامل کے ساتھ کروپوچھا گیا ذکر خامل کیا ہے فرمایا ذکر خفی ہے“[2]

خاص خاص حالات اور اوقات میں جہر ہی مطلوب اور افضل ہے ان اوقات و حالت کی تفصیل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے قول و عمل سے واضح فرما دی ہے، مثلاً اذان و اقامت کا بلند آواز سے کہنا، جہری نمازوں میں بلند آواز سے تلاوت قرآن کرنا، تکبیرات نماز ، تکبیراتِ تشریق، حج میں تلبیہ بلند آواز سے کہنا وغیرہ، اسی لئے فقہاء رحمہم اللہ نے فیصلہ اس باب میں یہ فرمایا ہے کہ کن خاص حالات اور مقامات میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے قولاً یا عملاً جہر کرنے کی تلقین فرمائی ہے وہاں تو جہر ہی کرنا چاہئے، اس کے علاوہ دوسرے حالات و مقامات میں ذکر خفی اولیٰ وانفع ہے[3]۔

اصل ذکر اور ذکر حقیقی وہ ذکر قلبی ہے اور ذکر لسانی کواس لیے ذکر کہاجاتا ہے کہ وہ ذکر قلبی کاترجمان ہے اس لے کہ اگر کوئی شخص دل سے کسی کی یاد میں محو ہو اور زبان سے ساکت ہوتو وہ ذاکر سمجھاجاتا ہے لیکن اگر زبان سے کسی کانام لے اور دل میں کوئی اور بساہوا ہو تو حقیقت شناس لوگوں کے نزدیک یاد کرنے والوں میں اس کاشمار نہیں ہوسکتا[4]۔

حدیث شریف میں منقول ہے کہ وہ ذکر خفی ستر درجہ افضل ہے جسے حفظہ (یعنی اعمال لکھنے والے فرشتے) بھی نہیں سنتے چنانچہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو حساب کتاب کے لئے جمع کرے گا تو حفظہ (اعمال لکھنے والے فرشتے) وہ تمام ریکارڈ لے کر حاضر ہوں گے جنہیں انہوں نے اپنی نوشت اور یادداشت میں محفوظ کر رکھا ہو گا وہ تمام ریکارڈ دیکھ کر اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ دیکھو میرے بندوں کے اعمال میں اور کیا چیز باقی رہ گئی ہے (جو تمہارے اس ریکارڈ میں نہیں ہے) وہ عرض کریں گے! پروردگار!بندوں کے اعمال کے سلسلہ میں جو کچھ بھی ہمیں معلوم ہو اور جو کچھ بھی ہم نے یاد رکھا ہم نے اسے اس ریکارڈ میں جمع کر دیا ہے، اس ریکارڈ میں ہم نے ایسی کوئی چیز محفوظ کرنے سے نہیں چھوڑی جس کی ہمیں خبر ہوئی ہو تب اللہ تعالیٰ بندہ کو مخاطب کر کے فرمائے گا کہ میرے پاس تیری ایسی نیکی محفوظ ہے جسے کوئی نہیں جانتا اور وہ ذکر خفی ہے میں تجھے اس نیکی کا اجر عطا کروں گا۔[5]

محقق و محدث کبیرحضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بیان کی ہے۔
عَنْ اَبِی الدَّرْدآءِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم اَلا اُنَبِّئُکُمْ بِخَیْرِ اَعْمَالِکُمْ وَ اَزْکٰہَا عِنْدَ مَلیْککُمْ وَاَرْفَعِہَا فیْ دَرَجَاتِکُمْ وَ خَیْرٍ لَّکُمْ مِّنْ اِنْفَاقِ الذَّہَبِ وَالْوَرْقِ وَ خَیْرٍ لَّکُمْ مِّن اَنْ تَلْقُوْا عَدُوَّکُمْ فَتَضْرِبُوْا اَعْنَاقِہُمْ وَیَضْرِبُوْا اَعْنَاقَکُمْ قَالُوْا بَلیٰ قَالَ ذِکْرُ اللہ[6]

حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے اعمال میں سے بہتر عمل کی خبر نہ دوں جو تمہارے رب کے نزدیک زیادہ پاکیزہ ہو، جو تمہارے اعمال میں سب سے بلند مرتبہ ہو، جو تمہارے سونا اور چاندی کے خیرات کرنے سے زیادہ اچھا عمل ہو، جو تمہارے لیے اس عمل سے بھی بہتر ہو کہ تم دشمنوں سے مقابلہ کرکے انہیں قتل کرو اور وہ تمہارے گردنوں پر وار کریں؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ہاں یارسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
اَلْمُرَادُ الذِّکْرُ الْقَلْبِیُّ فَاِنَّہٗ ھُوَ الَّذِیْ لَہُ الْمَنْزِلَۃُ الزَّائِدَۃُ عَلیٰ بَذْلِ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ لِاَنَّہ عَمَلُ نَفْسِیُّ وَفِعْلُ الْقَلْبِ الَّذِیْ ھُوَ اَشَقُّ مِنْ عَمَلِ الْجَوَارِحِ بَلْ ھُوَ الْجِہَادُ الْاَکْبَرُ[7]
اس ذکر سے ذکر قلبی مراد ہے۔ یہی وہ ذکر ہے جس کا مرتبہ جان و مال خرچ کرنے سے بھی زیادہ ہے۔ کیونکہ یہ باطنی عمل ہے اور دل کا عمل ہے جو دوسرے اعضاء کے اعمال سے نفس کے لیے زیادہ سخت ہے۔ بلکہ یہی جہاد اکبر ہے۔

 حوالہ جات
1. صحیح البخاری رقم الحدیث :6409 صحیح مسلم رقم الحدیث، 2704، سنن ابوداؤد رقم الحدیث :1526، سنن الترمذی رقم الحدیث :3472)
2. الزهد والرقائق حدیث155 المؤلف:عبد الله بن المبارك الناشر: دار الكتب العلميۃ- بيروت
3. تفسیر معارف القرآن - مفتی محمد شفیع الاعراف آیت 55
4. تفسیر معارف القرآن - مولاناادریس کاندہلوی سورۃ البقرہ 172
5. مسند أبي يعلى، أحمد بن علي بن المثُنى،الموصلي ، حدیث نمبر4738،الناشر: دار المأمون للتراث - دمشق
6. مشکواۃ المصابیح صفحہ 198
7. مرقاۃ المفاتیح صفحہ نمبر ۲۲ جلد ثالث

 ذکر قلبی کے بارے میں اقوال سلطان باہو رحمت اللی علیہ

حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ عین الفقر میں فرماتے ہیں کہ ہر جاندار کا دل اللہ کا ذکر کرتا ہے کچھ کا معدوم ہے اور کچھ کا معلوم. نیز فرماتے ہءں کہ کہ ذکر الہٰی سے قلب میں دس صفات پیدا ہوتی ہیں۔

(1) ذکر الہٰی کی تاثیر سے قلب آفتاب کی طرح روشن ہوجاتا ہے اور وجود میں کسی قسم کی تاریکی نہیں رہتی۔
(2) قلب گہرے دریا کی مانند ہو جاتا ہے ،اس میں جو کچھ گرے ناپاک نہیں رہتا.
(3) قلب آتش عشق الہٰی سے بھر جاتا ہے ،جو ماسوا اللہ کو جلا دیتی ہے۔
(4) قلب چشمہ آب حیات سے بھر جاتا ہے ،جو بھی یہ آب حیات پی لے ،حیات ابدی پاجاتا ہے ،اسکا دل زندہ اور نفس مردہ ہو جاتا ہے۔
(5) قلب سخاوت کا کان بن جاتا ہے ،جس سے ظاہر وباطن معبود حقیقی کی عبادت میں مستغرق رہتا ہے۔
(6) قلب طلسمات کی مانند ہو تا ہے ،ذکر اللہ کی برکت سے ان طلسمات کو بھسم کر کے خزانہ معرفت الہٰی پا لیتا ہے۔
(7) قلب ہر راہ حقیقت کو آئینے کی طرح دیکھ لیتا ہے۔
(8) قلب چراغ کی طرح روشن ہو جاتا ہے۔
(9) قلب ذکر الہٰی کی باران رحمت سے ہرا بھرا ہو جاتا ہے.
(10) قلب قربِ الہٰی کا واصل بن جاتا ہے اور پھر اسکے مدنظر ہمیشہ اللہ کی ذات رہتی ہے۔



Comments

Popular posts from this blog

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو کسے زندگی ہے عزیز اب، کسے آرزوئے شب طرب مگر اے نگار وفا طلب ترا اعتبار کوئی تو ہو کہیں تار دامن گل ملے تو یہ مان لیں کہ چمن کھلے کہ نشان فصل بہار کا سر شاخسار کوئی تو ہو یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سر کوئے یار کوئی تو ہو یہ سکون جاں کی گھڑی ڈھلے تو چراغ دل ہی نہ بجھ چلے وہ بلا سے ہو غم عشق یا غم روزگار کوئی تو ہو سر مقتل شب آرزو رہے کچھ تو عشق کی آبرو جو نہیں عدد تو فراز تو کہ نصیب دار کوئی تو ہو   احمد فراز 

تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

ایک بادشاہ نے چار آدمی طلب کئے ان میں سے ایک عالم تھا ، دوسرا عاشق تھا ، تیسرا نابینا تھا اور چوتھا غریب تھا ، بادشاہ نے ان چاروں سے کہا کہ میرے دماغ میں ایک مصرعہ آیا ہے تم لوگ اسکو مکمل کرو ، مصرعہ یہ ہے: ( اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں ) چاروں نے تھوڑا سوچ بچار کیا اور اپنے اپنے حساب سے شعر بنائے جو کچھ یوں تھے ۔ عالم : بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں عاشق : ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں نابینا : ہم میں بینائی نہیں اور اس میں گویائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں غریب : مانگتے پیسے مصور جیب میں پائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں راز کے گہرے پردوں میں ہر شخص محبت کرتا ہے حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں سب جھوٹے رشتے ناتے ہیں سب دل رکھنے کی باتیں ہیں سب اصلی روپ چھپاتے ہیں احساس سے خالی لوگ یہاں لفظوں کے تیر چلاتے ہیں ایک بار نظروں میں آکر وہ پھر ساری عمر رلاتے ہیں یہ عشق محبت مہر و وفا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہر شخص خودی کی مستی میں بس اپنی خاطر جیتا ہے بس اپنی خاطر جیتا ہے