Skip to main content

اماں کا شف


اماں کا چالیسواں ہوگیا۔چالیسویں کے بعد اماں کے کمرے کو چھیڑا گیا تو ایک بکس پر سب کی آنکھیں ٹک کر رہ گئیں۔ عنایت بھائی نے صفیہ بھابھی کے کہنے پر بکسے کا تالا توڑا اور صفیہ بھابھی کا منہ بن گیا۔ " یہ بھی کوئی بات ہوئی۔۔۔۔۔۔ اتنا بڑا دھوکا۔۔۔ " میں نے تیز نظروں سے انھیں گھورا اور نورالعین بھابھی، شفاعت بھائی کے ساتھ زمین پہ بیٹھ گئیں۔۔۔ شفاعت بھائی چیزیں نکالتے جاتے اور روئے جاتے۔
میرے کھلونے،عنایت بھائی کا پریپ کا بہترین نمبروں سے پاس ہونے کا رزلٹ کارڈ، اجمل بھیا کے اسکول میں ایوارڈ لینے کی تصویر،سلمٰی آپا کی ننھی سی فراک، عائشہ باجی کی چھوٹی سی جوتی، جسے پہن کر وہ پہلا قدم اٹھانے کے قابل ہوئی اور سب سے آخر میں سلمٰی آپا کا تازہ دکھ، ان کی بیوگی کا سفید دوپٹا۔۔۔
بکس خالی ہوگیا اور شفاعت بھیا کے مجسمے میں پہلی بار تحریک ہوئی۔ وہ کچھ نہیں بولے۔ بس روئے جا رہے تھے۔۔
" میرے لیے کچھ نہیں، میرا کچھ بھی نہیں۔۔۔"

سعدیہ عزیز آفریدی کے ناولٹ" اماں کا شفو" سے اقتباس

Comments

Popular posts from this blog

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو کسے زندگی ہے عزیز اب، کسے آرزوئے شب طرب مگر اے نگار وفا طلب ترا اعتبار کوئی تو ہو کہیں تار دامن گل ملے تو یہ مان لیں کہ چمن کھلے کہ نشان فصل بہار کا سر شاخسار کوئی تو ہو یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سر کوئے یار کوئی تو ہو یہ سکون جاں کی گھڑی ڈھلے تو چراغ دل ہی نہ بجھ چلے وہ بلا سے ہو غم عشق یا غم روزگار کوئی تو ہو سر مقتل شب آرزو رہے کچھ تو عشق کی آبرو جو نہیں عدد تو فراز تو کہ نصیب دار کوئی تو ہو   احمد فراز 

تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

ایک بادشاہ نے چار آدمی طلب کئے ان میں سے ایک عالم تھا ، دوسرا عاشق تھا ، تیسرا نابینا تھا اور چوتھا غریب تھا ، بادشاہ نے ان چاروں سے کہا کہ میرے دماغ میں ایک مصرعہ آیا ہے تم لوگ اسکو مکمل کرو ، مصرعہ یہ ہے: ( اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں ) چاروں نے تھوڑا سوچ بچار کیا اور اپنے اپنے حساب سے شعر بنائے جو کچھ یوں تھے ۔ عالم : بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں عاشق : ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں نابینا : ہم میں بینائی نہیں اور اس میں گویائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں غریب : مانگتے پیسے مصور جیب میں پائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں راز کے گہرے پردوں میں ہر شخص محبت کرتا ہے حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں سب جھوٹے رشتے ناتے ہیں سب دل رکھنے کی باتیں ہیں سب اصلی روپ چھپاتے ہیں احساس سے خالی لوگ یہاں لفظوں کے تیر چلاتے ہیں ایک بار نظروں میں آکر وہ پھر ساری عمر رلاتے ہیں یہ عشق محبت مہر و وفا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہر شخص خودی کی مستی میں بس اپنی خاطر جیتا ہے بس اپنی خاطر جیتا ہے