Skip to main content

بیوی کو طلاق دے دو


ایک دفعہ کسی صراف نے عباسی فرمانروا منصور کو عرضی بھیجی۔
"میں ایک غریب آدمی ہوں۔تھوڑی سی پونجی ایک صندوقچی میں رکھی تھی وہ چوری ہو گئی۔ اب کوڑی کوڑی کا محتاج ہو گیا ہوں۔"
منصور نے صراف کو خلوت میں طلب کر کے دریافت کیا ۔
" تمھارے گھر میں کون کون رہتاہے؟"
جواب ملا۔  "میری بیوی کے سوا کوئی نہیں ہے۔"
بادشاہ نے پوچھا۔ "بیوی جوان ہے یا معمر؟"
 صراف نے جواب دیا۔" جوان ہے۔"
خلیفہ منصور نے صراف کو جانے کی اجازت دے دی اور چلتے وقت اسے ایک عطر کی نایاب شیشی عطا کی یہ عطر خلیفہ کے سوا بغداد بھر میں کسی کے پاس نہ تھا۔ خلیفہ کے حکم سے شہر کی فصیل کے پہرےداروں کو شیشی سنگھوا دی گئی کہ ایسی خوشبو کسی کے پاس سے آئے تو اسے گرفتار کر لو چند روز بعد سپاہی ایک نوجوان کو پکٹر لائے اسکے پاس سے اسی مخصوص عطر کی خوشبو آ رہی تھی۔
خلیفہ منصور نے اس سے دریافت کیا۔ " یہ عطر تجھے کہاں سے دستیاب ہوا۔"
نوجوان خاموش رہا ۔
خلیفہ نے کہا ۔" جان کی امان چاہتا ہے تو صندوقچی واپس کر دے جو تجھے صراف کی بیوی نے دی ہے۔"
 اس شخص نے چپ چاپ صندوقچی واپس کر دی اور معافی چاہی۔
بادشاہ نے صراف کو بلا کر صندوقچی دی اور سمجھایا۔
 "بیوی کو طلاق دے دو وہ تمہاری وفادار نہیں ہے۔"


Comments

Popular posts from this blog

تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

ایک بادشاہ نے چار آدمی طلب کئے ان میں سے ایک عالم تھا ، دوسرا عاشق تھا ، تیسرا نابینا تھا اور چوتھا غریب تھا ، بادشاہ نے ان چاروں سے کہا کہ میرے دماغ میں ایک مصرعہ آیا ہے تم لوگ اسکو مکمل کرو ، مصرعہ یہ ہے: ( اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں ) چاروں نے تھوڑا سوچ بچار کیا اور اپنے اپنے حساب سے شعر بنائے جو کچھ یوں تھے ۔ عالم : بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں عاشق : ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں نابینا : ہم میں بینائی نہیں اور اس میں گویائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں غریب : مانگتے پیسے مصور جیب میں پائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو کسے زندگی ہے عزیز اب، کسے آرزوئے شب طرب مگر اے نگار وفا طلب ترا اعتبار کوئی تو ہو کہیں تار دامن گل ملے تو یہ مان لیں کہ چمن کھلے کہ نشان فصل بہار کا سر شاخسار کوئی تو ہو یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سر کوئے یار کوئی تو ہو یہ سکون جاں کی گھڑی ڈھلے تو چراغ دل ہی نہ بجھ چلے وہ بلا سے ہو غم عشق یا غم روزگار کوئی تو ہو سر مقتل شب آرزو رہے کچھ تو عشق کی آبرو جو نہیں عدد تو فراز تو کہ نصیب دار کوئی تو ہو   احمد فراز 

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں راز کے گہرے پردوں میں ہر شخص محبت کرتا ہے حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں سب جھوٹے رشتے ناتے ہیں سب دل رکھنے کی باتیں ہیں سب اصلی روپ چھپاتے ہیں احساس سے خالی لوگ یہاں لفظوں کے تیر چلاتے ہیں ایک بار نظروں میں آکر وہ پھر ساری عمر رلاتے ہیں یہ عشق محبت مہر و وفا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہر شخص خودی کی مستی میں بس اپنی خاطر جیتا ہے بس اپنی خاطر جیتا ہے