Skip to main content

بیٹیاں


وہ بیٹیاں کبھی سسرال میں سر اٹھا کر نہیں جی سکتیں ، جن کے گھر سے کبھی عیدی نہ آۓ ،
وہ بیٹیاں کبھی دل سے خوش نہیں ہوسکتیں جن کے گھر والے کبھی ... ان کو فون نہ کریں
وہ بیٹیاں عزت کی مستحق کیسے ہو سکتی ہیں جن کے گھر والے ... انہیں جیتے جی بھول جائیں ،
سر پہ سائبان نہ ہو تو دھوپ تو جلاتی ہے ناں !!!
کہاں ، کہاں ، کیسی کیسی حسرتیں جمع ہوجاتی ہیں ،
بین کرتی ، شور مچاتی ،
کوئ اونچا بولے تو دل سہم جاتا ہے ،
کوئ زور سے پکارے تو دل دھڑک جاتا ہے ،
کوئ ذیادتی کرے تو سہنا پڑتی ہے ،
کیونکہ وہ کاندھا کہاں ہے جس پر سر رکھ کر چیخ چیخ کر رویا جاۓ ،
بہت سے آنسو ، سارے ہی آنسو
اور اندر ہی اندر قطرہ قطرہ گرتے آنسو ،
دل کو زنگ لگا دیتے ہیں
کوئ مہربان آغوش وا نہیں ہوتی ۔ " —


Comments

Popular posts from this blog

تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

ایک بادشاہ نے چار آدمی طلب کئے ان میں سے ایک عالم تھا ، دوسرا عاشق تھا ، تیسرا نابینا تھا اور چوتھا غریب تھا ، بادشاہ نے ان چاروں سے کہا کہ میرے دماغ میں ایک مصرعہ آیا ہے تم لوگ اسکو مکمل کرو ، مصرعہ یہ ہے: ( اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں ) چاروں نے تھوڑا سوچ بچار کیا اور اپنے اپنے حساب سے شعر بنائے جو کچھ یوں تھے ۔ عالم : بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں عاشق : ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں نابینا : ہم میں بینائی نہیں اور اس میں گویائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں غریب : مانگتے پیسے مصور جیب میں پائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو کسے زندگی ہے عزیز اب، کسے آرزوئے شب طرب مگر اے نگار وفا طلب ترا اعتبار کوئی تو ہو کہیں تار دامن گل ملے تو یہ مان لیں کہ چمن کھلے کہ نشان فصل بہار کا سر شاخسار کوئی تو ہو یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سر کوئے یار کوئی تو ہو یہ سکون جاں کی گھڑی ڈھلے تو چراغ دل ہی نہ بجھ چلے وہ بلا سے ہو غم عشق یا غم روزگار کوئی تو ہو سر مقتل شب آرزو رہے کچھ تو عشق کی آبرو جو نہیں عدد تو فراز تو کہ نصیب دار کوئی تو ہو   احمد فراز