Skip to main content

خدا اور ماں


ایک ماں تیسری منزل پر شعلوں میں گھری موت سے لپٹی اپنا ہاتھ کھڑکی سے باہر نکالے اپنے شیر خوار بچے کی زندگی کی امید میں اذیت کے آخری مقام پر کھڑی ہے بچے کی اذیت احساس سے ماورا ہے مگر ماں جھیل رہی ہے اس جذبے کی کیلکولیشن کسی پیمانے پر نہیں کی جا سکتی اس کا اپنا ایک اکلوتا واحد فارمولا ہے
جسے " ممتا " کہتے ہیں ۔۔۔۔۔

سکول بچوں کی ایک ویگن خوابوں کے ایک خوشگوار سفر پر نکلتی ہے مگر خوش گمانی کے پل سے نیچے موت کے سرد پانی میں جا گرتی ہے خوبصورت ، جوان اور دلکش امنگوں سے بھری اسکول ٹیچر واپسی کے سارے راستے جانتی ہے لیکن معصوم بچوں کی آنکھوں کی امید ہر راستہ مسدود کر دیتی ہے کتنے ہی بچے اپنی ماوں کی گود تک پلٹ آتے ہیں مگر وہ نورِ عین جس نے انہیں جنم نہیں دیا لیکن روحانی تخلیق کی شریک کار رہی کبھی اپنی ماں کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے واپس نہیں پلٹ سکی ۔۔بچوں اور اس کے بیچ جو جذبہ تھا اس کی کیلکولیشن کی جا سکتی ہے
اسے " بھروسہ "  کہتے ہیں ۔۔۔۔

ایک چھوٹا سا دس سالہ مسیح بلند اقبال لڑکا خرکاروں کے ہتھے چڑھ جاتا ہے لیکن اس کی روشن پیشانی غلامی قبول نہیں کرتی وہ اپنی عقلمندی اور بہادری سے بچ نکلتا ہے مگر جو اسکے ہم عمر ، راستے سے انجان ساتھی پیچھے ظالموں کی قید میں رہ گئے تھے ان کا کیا ؟  وہ پھر واپس پلٹتا ہے اور اپنے سینکڑوں ساتھیوں کو بربریت اور قید سے نجات دلاتے ہوئے ہمیشہ کے لئے جسم کی قیدسے آزاد ہو جاتا ہے ۔ اس جذبے کی بھی کیلکولیشن کی جا سکتی ہے
 اسے " انسان دوستی " کہتے ہیں ۔۔۔۔

پھر ایک تاریخ کا بدترین سانحہ ہوتا ہے علم کے علم ہاتھ میں تھامے ننھے چہروں کی روشنی پر شیطانیت اپنی پوری کراہت سےحملہ آور ہوتی ہے جب خاک دھول اور شیطانی رقص میں ہاتھ کو ہاتھ سجھائ نہیں دیتا درس گاہ کی ہر اینٹ لہو رو رہی ہوتی ہے اس قتل گاہ سے بچ نکلنے والی استاذ عظیم صرف پل بھر کے لئے ہی اپنی سانس درست کر پاتی ہے کہ اسے یاد آتا ہے پیچھے رہ جانے والے ہزار معصوم چراغوں کی نگاہوں میں کچھ ڈوب رہا ہے وقت کی  ایک ہزارویں ساعت بھی ضائع کئے بغیر وہ اس مقتل میں واپس پلٹتی ہیں اور اس مدھم پڑتی ڈوبتی شے کو بچا کر خود امر ہو جاتی ہیں اس شے کی بھی کیلکولیشن کی جا سکتی ہے
 اسے " مان "  کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

انسان نے ہمیشہ سے خدا اور ماں کے بعد کوئی ایسی پناہ گاہ ڈھونڈنی چاہی  جو زندگی کے سفر میں تہذیبوں کے اتار چڑھاوٴ میں اس کا حوصلہ اور امید ثابت ہو اور اس کے حصے کی کیلکولیشن کا بار اٹھانے کے لائق ہو اس کے بدلے وہ اپنا یقین ، ایمان ، اور  محبت اس ہستی کو سونپتا رہا ہے ۔۔
جذبات کی اس کیلکولیشن میں جسے " ممتا " " بھروسہ " "انسان دوستی " اور " مان " رکھنا آتا ہو اسے " لیڈر "  کہتے ہیں ۔۔۔
کیا آپ کو یقین ہے جسے آپ اپنا لیڈر کہتے ہیں وہ کم از کم اوپر دی گئی چار مثالوں پر پورا اترتا ہے

Comments

Popular posts from this blog

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو کسے زندگی ہے عزیز اب، کسے آرزوئے شب طرب مگر اے نگار وفا طلب ترا اعتبار کوئی تو ہو کہیں تار دامن گل ملے تو یہ مان لیں کہ چمن کھلے کہ نشان فصل بہار کا سر شاخسار کوئی تو ہو یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سر کوئے یار کوئی تو ہو یہ سکون جاں کی گھڑی ڈھلے تو چراغ دل ہی نہ بجھ چلے وہ بلا سے ہو غم عشق یا غم روزگار کوئی تو ہو سر مقتل شب آرزو رہے کچھ تو عشق کی آبرو جو نہیں عدد تو فراز تو کہ نصیب دار کوئی تو ہو   احمد فراز 

تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

ایک بادشاہ نے چار آدمی طلب کئے ان میں سے ایک عالم تھا ، دوسرا عاشق تھا ، تیسرا نابینا تھا اور چوتھا غریب تھا ، بادشاہ نے ان چاروں سے کہا کہ میرے دماغ میں ایک مصرعہ آیا ہے تم لوگ اسکو مکمل کرو ، مصرعہ یہ ہے: ( اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں ) چاروں نے تھوڑا سوچ بچار کیا اور اپنے اپنے حساب سے شعر بنائے جو کچھ یوں تھے ۔ عالم : بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں عاشق : ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں نابینا : ہم میں بینائی نہیں اور اس میں گویائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں غریب : مانگتے پیسے مصور جیب میں پائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں راز کے گہرے پردوں میں ہر شخص محبت کرتا ہے حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں سب جھوٹے رشتے ناتے ہیں سب دل رکھنے کی باتیں ہیں سب اصلی روپ چھپاتے ہیں احساس سے خالی لوگ یہاں لفظوں کے تیر چلاتے ہیں ایک بار نظروں میں آکر وہ پھر ساری عمر رلاتے ہیں یہ عشق محبت مہر و وفا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہر شخص خودی کی مستی میں بس اپنی خاطر جیتا ہے بس اپنی خاطر جیتا ہے