ایک دن میں نے اپنی ماں سے پوچھا
کیا میں سندر پھول بنوں گی؟
دنیا میرے ہاتھ میں ہو گی؟
تب وہ دھیرے دھیرے بولی
جو ہونا ہے جان وہ ہو گا
مستقبل پر کس کا بس ہے
مستقبل کو کس نے دیکھا
جو ہونا ہے جان وہ ہو گا
جیوں کے راستوں پر چلتے بنتے بنتے خواب سہانے
اپنے شہزادے سے پوچھا
اب کیا دن کیا راتیں ہوں گی ؟
قوس و قزح جیسے دن ہوں گے ؟
یا پاگل برساتیں ہوں گی؟
تب وہ شہزادہ یوں بولا
جو ہونا ہے جان وہ ہو گا
مستقبل پر کس کا بس ہے
مستقبل کو کس نے دیکھا
جو ہونا ہے جان وہ ہو گا
اب میرے منے بچے مجھ سے پوچھیں
کیا وہ سندر پھول بنیں گے؟
دنیا ان کے ہاتھ میں ہو گی ؟
تب میں دھیرے سے کہتی ہوں
جو ہونا ہے جان وہ ہو گا
مستقبل پر کس بس ہے
مستقبل کو کس نے دیکھا
جو ہونا ہے جان وہ ہو گا
کیا میں سندر پھول بنوں گی؟
دنیا میرے ہاتھ میں ہو گی؟
تب وہ دھیرے دھیرے بولی
جو ہونا ہے جان وہ ہو گا
مستقبل پر کس کا بس ہے
مستقبل کو کس نے دیکھا
جو ہونا ہے جان وہ ہو گا
جیوں کے راستوں پر چلتے بنتے بنتے خواب سہانے
اپنے شہزادے سے پوچھا
اب کیا دن کیا راتیں ہوں گی ؟
قوس و قزح جیسے دن ہوں گے ؟
یا پاگل برساتیں ہوں گی؟
تب وہ شہزادہ یوں بولا
جو ہونا ہے جان وہ ہو گا
مستقبل پر کس کا بس ہے
مستقبل کو کس نے دیکھا
جو ہونا ہے جان وہ ہو گا
اب میرے منے بچے مجھ سے پوچھیں
کیا وہ سندر پھول بنیں گے؟
دنیا ان کے ہاتھ میں ہو گی ؟
تب میں دھیرے سے کہتی ہوں
جو ہونا ہے جان وہ ہو گا
مستقبل پر کس بس ہے
مستقبل کو کس نے دیکھا
جو ہونا ہے جان وہ ہو گا
Comments
Post a Comment