زندگی اور عقیدے میں فاصلہ رکھنے والا انسان منافق ہوتا ہے۔ ایسا شخص نہ گناہ چھوڑتا ہے نہ عبادت۔ اﷲ اُس کی سماجی یا سیاسی مجبوری ہوتا ہے، دینی نہیں۔ ایسے آدمی کے لیے مایوسی اور کربِ مسلسل کا عذاب ہوتا ہے۔ جو بے ضرر ہوگیا ‘ وہ فقیر ہوگیا… اور جو منفعت بخش ہوگیا وہ اللہ کا دوست ہوگیا.
الفاظ کے جھوٹے بندھن میں راز کے گہرے پردوں میں ہر شخص محبت کرتا ہے حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں سب جھوٹے رشتے ناتے ہیں سب دل رکھنے کی باتیں ہیں سب اصلی روپ چھپاتے ہیں احساس سے خالی لوگ یہاں لفظوں کے تیر چلاتے ہیں ایک بار نظروں میں آکر وہ پھر ساری عمر رلاتے ہیں یہ عشق محبت مہر و وفا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہر شخص خودی کی مستی میں بس اپنی خاطر جیتا ہے بس اپنی خاطر جیتا ہے
Comments
Post a Comment