Skip to main content

زندگی سے ڈرتے ہو

زندگی سے ڈرتے ہو ؟....
زندگی کلیساء کی
راہبہ نہیں کوئ
جا نماز پر بیٹھی
زاہدہ نہیں کوئ
زندگی ہے اک چینچل
بے حجاب رقاصہ
ہاتھ تھام کے جس کا
رقص گاہِ عالم میں
ناچتا ہے ہر انساں
تم بھی اس حسینہ کو
بازوؤں کے گھیرے میں
لے کے بے قراری سے
رقص کیوں نہیں کرتے؟
نرتکی سے ڈرتے ہو ؟
اس سے تم نہیں ڈرتے
مولوی سے ڈرتے ہو
مذہبی جنونی کی
دشمنی سے ڈرتے ہو
وہ مصوری ہو
یا شاعری و موسیقی
ہر لطیف فن کو وہ
کم نظر فتاویٰ گر
کافری سمجھتا ہے
تم عجب سپاہی ہو
رائفل کی نالی سے
تم کو ڈر نہیں لگتا
بانسری سے ڈرتے ہو
جس سے وہ ڈراتا ہے
تم اُسی سے ڈرتے ہو
زندگی بدن کا رقص
دھڑکنوں کا سازینہ
ساز سے تمہیں نفرت ؟
رقص سے تمہیں نفرت ؟
شعر سے تمہیں نفرت ؟
حسن سے تمہیں نفرت ؟
خوف, نفرتوں کی جڑ
یار! تم اگر اتنا ہی
زندگی سے ڈرتے ہو
مر کیوں نہیں جاتے ؟
خود کُشی سے ڈرتے ہو؟

Comments

Popular posts from this blog

تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

ایک بادشاہ نے چار آدمی طلب کئے ان میں سے ایک عالم تھا ، دوسرا عاشق تھا ، تیسرا نابینا تھا اور چوتھا غریب تھا ، بادشاہ نے ان چاروں سے کہا کہ میرے دماغ میں ایک مصرعہ آیا ہے تم لوگ اسکو مکمل کرو ، مصرعہ یہ ہے: ( اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں ) چاروں نے تھوڑا سوچ بچار کیا اور اپنے اپنے حساب سے شعر بنائے جو کچھ یوں تھے ۔ عالم : بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں عاشق : ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں نابینا : ہم میں بینائی نہیں اور اس میں گویائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں غریب : مانگتے پیسے مصور جیب میں پائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو کسے زندگی ہے عزیز اب، کسے آرزوئے شب طرب مگر اے نگار وفا طلب ترا اعتبار کوئی تو ہو کہیں تار دامن گل ملے تو یہ مان لیں کہ چمن کھلے کہ نشان فصل بہار کا سر شاخسار کوئی تو ہو یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سر کوئے یار کوئی تو ہو یہ سکون جاں کی گھڑی ڈھلے تو چراغ دل ہی نہ بجھ چلے وہ بلا سے ہو غم عشق یا غم روزگار کوئی تو ہو سر مقتل شب آرزو رہے کچھ تو عشق کی آبرو جو نہیں عدد تو فراز تو کہ نصیب دار کوئی تو ہو   احمد فراز 

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں راز کے گہرے پردوں میں ہر شخص محبت کرتا ہے حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں سب جھوٹے رشتے ناتے ہیں سب دل رکھنے کی باتیں ہیں سب اصلی روپ چھپاتے ہیں احساس سے خالی لوگ یہاں لفظوں کے تیر چلاتے ہیں ایک بار نظروں میں آکر وہ پھر ساری عمر رلاتے ہیں یہ عشق محبت مہر و وفا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہر شخص خودی کی مستی میں بس اپنی خاطر جیتا ہے بس اپنی خاطر جیتا ہے