مہتاب ہیں ، گلاب ہیں ، صندل ہیں بیٹیاں
باد صبا ہیں ، خوشبو ہیں، بدل ہیں بیٹیاں
اس منصب جلپل پہ فائز ازل سے ہیں
رحمت خدا کی، پیار کا آنچل ہیں بیٹیاں
ہر تشنگی کا ایک مکمل جواب ہیں
ممتا خلوص پیار کی چھاگل ہیں بیٹیاں
ان سے ملی ہے سارے زمانے کو روشنی
خود ظلمتوں کے ہاتھ سے گھایل ہیں بیٹیاں
ہیں جستجو ،، تلاش ،، امانت سماج کی
پلکوں پہ ان کو لیجیے کاجل ہیں بیٹیاں
جنت ہے ان کے زیربا دنیا کا زکر کیا
دونوں جہاں کا ، حسن مکمل ہیں بیٹیاں
انسانیت! بدن کا یہ تیرے لباس ہیں
مت کینچ ان کو ، کانٹوں پہ مکمل ہیں بیٹیاں
ہے فکر کا مقام جو طاقت ہیں قوم کی
پھر کیوں آمین داخل مقتل ہیں بیٹیاں
مہتاب ہیں ، گلاب ہیں ، صندل ہیں بیٹیاں
باد صبا ہیں ، خوشبوں ہیں ، بدل ہیں بیٹیاں
کچھ بھی ہو ، بیٹی پھر بیٹی ہی ہے ... الله بیٹی دے تو اس کی قسمت بھی دے ...
Comments
Post a Comment