Skip to main content

بیٹیاں



مہتاب ہیں ، گلاب ہیں ، صندل ہیں بیٹیاں
باد صبا ہیں ، خوشبو ہیں، بدل ہیں بیٹیاں
اس منصب جلپل پہ فائز ازل سے ہیں
رحمت خدا کی، پیار کا آنچل ہیں بیٹیاں
ہر تشنگی کا ایک مکمل جواب ہیں
ممتا خلوص پیار کی چھاگل ہیں بیٹیاں
ان سے ملی ہے سارے زمانے کو روشنی
خود ظلمتوں کے ہاتھ سے گھایل ہیں بیٹیاں
ہیں جستجو ،، تلاش ،، امانت سماج کی
پلکوں پہ ان کو لیجیے کاجل ہیں بیٹیاں
جنت ہے ان کے زیربا دنیا کا زکر کیا
دونوں جہاں کا ، حسن مکمل ہیں بیٹیاں
انسانیت! بدن کا یہ تیرے لباس ہیں
مت کینچ ان کو ، کانٹوں پہ مکمل ہیں بیٹیاں
ہے فکر کا مقام جو طاقت ہیں قوم کی
پھر کیوں آمین داخل مقتل ہیں بیٹیاں
مہتاب ہیں ، گلاب ہیں ، صندل ہیں بیٹیاں
باد صبا ہیں ، خوشبوں ہیں ، بدل ہیں بیٹیاں


کچھ بھی ہو ، بیٹی پھر بیٹی ہی ہے ... الله بیٹی دے تو اس کی قسمت بھی دے ...

Comments

Popular posts from this blog

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں راز کے گہرے پردوں میں ہر شخص محبت کرتا ہے حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں سب جھوٹے رشتے ناتے ہیں سب دل رکھنے کی باتیں ہیں سب اصلی روپ چھپاتے ہیں احساس سے خالی لوگ یہاں لفظوں کے تیر چلاتے ہیں ایک بار نظروں میں آکر وہ پھر ساری عمر رلاتے ہیں یہ عشق محبت مہر و وفا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہر شخص خودی کی مستی میں بس اپنی خاطر جیتا ہے بس اپنی خاطر جیتا ہے

تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

ایک بادشاہ نے چار آدمی طلب کئے ان میں سے ایک عالم تھا ، دوسرا عاشق تھا ، تیسرا نابینا تھا اور چوتھا غریب تھا ، بادشاہ نے ان چاروں سے کہا کہ میرے دماغ میں ایک مصرعہ آیا ہے تم لوگ اسکو مکمل کرو ، مصرعہ یہ ہے: ( اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں ) چاروں نے تھوڑا سوچ بچار کیا اور اپنے اپنے حساب سے شعر بنائے جو کچھ یوں تھے ۔ عالم : بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں عاشق : ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں نابینا : ہم میں بینائی نہیں اور اس میں گویائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں غریب : مانگتے پیسے مصور جیب میں پائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

سعادت حسن منٹو

زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزررہے ہیں ، اگر آپ اس سے ناواقف ہیں ،تو میرے افسانے پڑھئے ۔ اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ زمانہ ناقابلِ برداشت ہے۔ مجھ میں جو برائیاں ہیں،وہ اس عہد کی برائیاں ہیں ۔ میری تحریر میں کوئی نقص نہیں ، جس نقص کو میرے نام سے منسوب کیا جاتا ہے ، در اصل موجودہ نظام کا نقص ہے۔‘‘ " سعادت حسن منٹو"