Skip to main content

باپ رونے لگا


پرانے  گھر  کو  گرایا  تو  باپ رونے لگا
خوشی نے دِل سا دُکھایا تو باپ رونے  لگا

یہ رات کھانستے رہتے ہیں کوفت ہوتی ہے
بہو نے  سب  میں  جتایا  تو  باپ رونے لگا

کئی عزیزوں کے مرنے پہ باپ رویا نہیں
جو   آج  نہ  رہا    تایا  تو  باپ  رونے لگا

اَذان بیٹے کے کانوں میں دے رہا تھا میں
اَذان   دیتے   جو   پایا  تو  باپ رونے لگا

جو اَمی نہ رہیں تو کیا ہُوا کہ ہم  سب  ہیں
جواب   بن  نہیں  پایا   تو  باپ رونے لگا

ہزار بار اُسے روکا میں نے سگریٹ سے
جو  آج  چھین  بجھایا  تو  باپ  رونے لگا

بہن  رَوانگی  سے  پہلے   پیار   لینے   گئی
جو کچھ بھی دے نہیں پایا تو باپ رونے لگا

بٹھا کے رِکشے میں ، کل شب رَوانہ کرتے ہُوئے
دیا   جو  میں  نے   کرایہ    تو   باپ  رونے   لگا

طبیب  کہتا تھا  پاگل کو کچھ بھی یاد نہیں
گلے سے میں نے لگایا تو باپ رونے لگا

بہت سی  لاشوں  میں جذبے دَھڑکتے رِہتے ہیں
سر  اُس  کا  میں  نے  دُھلایا تو باپ رونے لگا

نہ جانے قیسؔ نے کس جذبے سے یہ کیا لکھا
کہ  جونہی  پڑھ  کے  سنایا تو باپ رونے لگا

۔ شہزادقیس ۔  


Comments

Popular posts from this blog

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو کسے زندگی ہے عزیز اب، کسے آرزوئے شب طرب مگر اے نگار وفا طلب ترا اعتبار کوئی تو ہو کہیں تار دامن گل ملے تو یہ مان لیں کہ چمن کھلے کہ نشان فصل بہار کا سر شاخسار کوئی تو ہو یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سر کوئے یار کوئی تو ہو یہ سکون جاں کی گھڑی ڈھلے تو چراغ دل ہی نہ بجھ چلے وہ بلا سے ہو غم عشق یا غم روزگار کوئی تو ہو سر مقتل شب آرزو رہے کچھ تو عشق کی آبرو جو نہیں عدد تو فراز تو کہ نصیب دار کوئی تو ہو   احمد فراز 

تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

ایک بادشاہ نے چار آدمی طلب کئے ان میں سے ایک عالم تھا ، دوسرا عاشق تھا ، تیسرا نابینا تھا اور چوتھا غریب تھا ، بادشاہ نے ان چاروں سے کہا کہ میرے دماغ میں ایک مصرعہ آیا ہے تم لوگ اسکو مکمل کرو ، مصرعہ یہ ہے: ( اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں ) چاروں نے تھوڑا سوچ بچار کیا اور اپنے اپنے حساب سے شعر بنائے جو کچھ یوں تھے ۔ عالم : بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں عاشق : ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں نابینا : ہم میں بینائی نہیں اور اس میں گویائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں غریب : مانگتے پیسے مصور جیب میں پائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں راز کے گہرے پردوں میں ہر شخص محبت کرتا ہے حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں سب جھوٹے رشتے ناتے ہیں سب دل رکھنے کی باتیں ہیں سب اصلی روپ چھپاتے ہیں احساس سے خالی لوگ یہاں لفظوں کے تیر چلاتے ہیں ایک بار نظروں میں آکر وہ پھر ساری عمر رلاتے ہیں یہ عشق محبت مہر و وفا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہر شخص خودی کی مستی میں بس اپنی خاطر جیتا ہے بس اپنی خاطر جیتا ہے