Skip to main content

تم ایسے رہبر کو ووٹ دینا

تم ایسے رہبر کو ووٹ دینا

تم ایسے رہبر کو ووٹ دینا۔
وطن کو جو ماہتاب کر دے۔
اُداس چہرے گُلاب کر دے۔
جو ظُلمتوں کا نظام بدلے۔
جو روشنی بے حساب کر دے۔
تم ایسے رہبر کو ووٹ دینا۔

وطن جو میرا نہال کر دے ۔
جو ہجر موسم وصال کردے۔
جو خوشبوؤں کی نوید بن کر۔
گُلاب موسم بحال کر دے۔
تم ایسے رہبر کو ووٹ دینا۔

جو دل کا موسم سہانہ کر دے۔
وطن سے غربت روانہ کر دے۔
جو آستینوں کے سانپ مارے۔
جو بم دھماکے فسانہ کر دے۔
تم ایسے رہبر کو ووٹ دینا۔

جو دستِ قاتِل کو کاٹ ڈالے ۔
جو دیں فروشوں کا دَم نکالے۔
جو ماوں بہنوں کا ہو محافظ۔
جو وحشیوں کو لگام ڈالے۔۔
تم ایسے رہبر کو ووٹ دینا۔

قدم قدم پر جو راہبر ہو۔
گلی گلی سے جو باخبر ہو۔
جو دشمنوں سے نہ خوف کھائے
جسے ہمیشہ خدا کا ڈر ہو۔
تم ایسے رہبر کو ووٹ دینا۔

خدا کرے. وہ بہار آئے ۔
جو قرض سارے اُتار آئے۔
مرے وطن کے نصیب میں بھی۔
سکون، راحت قرار آئے۔

خدا کرے کہ مرے وطن پر۔
گھٹائیں رحمت کی روز برسیں۔
مرے وطن کا ملے نہ ویزہ۔
یہ اہلِ یورپ بھی کچھ تو ترسیں۔

Comments

Popular posts from this blog

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں راز کے گہرے پردوں میں ہر شخص محبت کرتا ہے حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں سب جھوٹے رشتے ناتے ہیں سب دل رکھنے کی باتیں ہیں سب اصلی روپ چھپاتے ہیں احساس سے خالی لوگ یہاں لفظوں کے تیر چلاتے ہیں ایک بار نظروں میں آکر وہ پھر ساری عمر رلاتے ہیں یہ عشق محبت مہر و وفا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہر شخص خودی کی مستی میں بس اپنی خاطر جیتا ہے بس اپنی خاطر جیتا ہے

تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

ایک بادشاہ نے چار آدمی طلب کئے ان میں سے ایک عالم تھا ، دوسرا عاشق تھا ، تیسرا نابینا تھا اور چوتھا غریب تھا ، بادشاہ نے ان چاروں سے کہا کہ میرے دماغ میں ایک مصرعہ آیا ہے تم لوگ اسکو مکمل کرو ، مصرعہ یہ ہے: ( اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں ) چاروں نے تھوڑا سوچ بچار کیا اور اپنے اپنے حساب سے شعر بنائے جو کچھ یوں تھے ۔ عالم : بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں عاشق : ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں نابینا : ہم میں بینائی نہیں اور اس میں گویائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں غریب : مانگتے پیسے مصور جیب میں پائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

سعادت حسن منٹو

زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزررہے ہیں ، اگر آپ اس سے ناواقف ہیں ،تو میرے افسانے پڑھئے ۔ اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ زمانہ ناقابلِ برداشت ہے۔ مجھ میں جو برائیاں ہیں،وہ اس عہد کی برائیاں ہیں ۔ میری تحریر میں کوئی نقص نہیں ، جس نقص کو میرے نام سے منسوب کیا جاتا ہے ، در اصل موجودہ نظام کا نقص ہے۔‘‘ " سعادت حسن منٹو"