Skip to main content

ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺷﯿﺸﮧ ﺑﻦ ﮐﺮﺭﮨﻨﺎ


ﺍﯾﮏ شخص ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺷﯿﺸﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮐﺮﮐﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ.. "ﺑﯿﭩﺎ ! ﺍﺱ ﺷﯿﺸﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻧﻈﺮ ﺁﺭﮨﺎ ﮨﮯ..؟؟
ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ.. "ﺍﺑﺎ ﺟﺎﻥ ! ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﻟﻮﮒ ﻧﻈﺮﺁ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ.."
ﭘﮭﺮ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭﭘﻮﭼﮭﺎ.. "ﺍﺏ ﮐﯿﺎ ﻧﻈﺮ ﺁﺭﮨﺎ ﮨﮯ..؟؟
ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ.. "ﺍﺑﺎ ﺟﺎﻥ ! ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﻧﻈﺮ ﺁﺭﮨﺎ ﮨﮯ.."
ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ.. "ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺑﯿﭩﮯ ! ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﯽ ﺷﯿﺸﮯ ﮨﯿﮟ.. ﺍﯾﮏ ﭘﺮ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﺎ ﻣﻠﻤﻊ ﭼﮍﮬﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﭖ ﻧﻈﺮ ﺁﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮍﮬﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﻟﻮﮒ ﻧﻈﺮ ﺁﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ..
ﺑﻠﮑﻞ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺻﺮﻑ ﺷﯿﺸﮧ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻟﻮﮒ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺳﻮﻧﮯ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﺎ ﻣﻠﻤﻊ ﭼﮍﮬﺎ ﻟﻮ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺅ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﺎ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ' ﺻﺮﻑ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﭖ ﮨﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﭖ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﮑﺒﺮ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﮨﮯ..
ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺷﯿﺸﮧ ﺑﻦ ﮐﺮﺭﮨﻨﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﮐﮫ ﺩﺭﺩ' ﻏﻢ ﺍﻭﺭ ﺗﮑﻠﯿﻔﯿﮟ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﯽ ﺭﮨﯿﮟ.."


Comments

Popular posts from this blog

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو کسے زندگی ہے عزیز اب، کسے آرزوئے شب طرب مگر اے نگار وفا طلب ترا اعتبار کوئی تو ہو کہیں تار دامن گل ملے تو یہ مان لیں کہ چمن کھلے کہ نشان فصل بہار کا سر شاخسار کوئی تو ہو یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سر کوئے یار کوئی تو ہو یہ سکون جاں کی گھڑی ڈھلے تو چراغ دل ہی نہ بجھ چلے وہ بلا سے ہو غم عشق یا غم روزگار کوئی تو ہو سر مقتل شب آرزو رہے کچھ تو عشق کی آبرو جو نہیں عدد تو فراز تو کہ نصیب دار کوئی تو ہو   احمد فراز 

تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

ایک بادشاہ نے چار آدمی طلب کئے ان میں سے ایک عالم تھا ، دوسرا عاشق تھا ، تیسرا نابینا تھا اور چوتھا غریب تھا ، بادشاہ نے ان چاروں سے کہا کہ میرے دماغ میں ایک مصرعہ آیا ہے تم لوگ اسکو مکمل کرو ، مصرعہ یہ ہے: ( اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں ) چاروں نے تھوڑا سوچ بچار کیا اور اپنے اپنے حساب سے شعر بنائے جو کچھ یوں تھے ۔ عالم : بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں عاشق : ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں نابینا : ہم میں بینائی نہیں اور اس میں گویائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں غریب : مانگتے پیسے مصور جیب میں پائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں راز کے گہرے پردوں میں ہر شخص محبت کرتا ہے حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں سب جھوٹے رشتے ناتے ہیں سب دل رکھنے کی باتیں ہیں سب اصلی روپ چھپاتے ہیں احساس سے خالی لوگ یہاں لفظوں کے تیر چلاتے ہیں ایک بار نظروں میں آکر وہ پھر ساری عمر رلاتے ہیں یہ عشق محبت مہر و وفا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہر شخص خودی کی مستی میں بس اپنی خاطر جیتا ہے بس اپنی خاطر جیتا ہے