کتنی گرہیں کھولی ہیں میں نے
کتنی گرہیں اب باقی ہیں

پاؤں میں پائل
باہوں میں کنگن
گلے میں ہنسلی
کمر بند چھلے اور بچھوے
ناک کان چھدواے گئے
اور زیور زیور کہتے کہتے
ریت رواج کی رسیوں سے
میں جکڑی گئی
اف! کتنی طرح میں پکڑی گئی
اب چھلنے لگے ہاتھ پاؤں
اور کتنی خراشیں ابھری ہیں
کتنی گرہیں ہیں کھولی ہیں میں نے
کتنی گرہیں اب باقی ہیں
انگ انگ میرا روپ رنگ
میرے نقش نین, میرے بولیں نین
میری آواز میں کوئل کی تعریف ہوئی
میری زلف سانپ میری زلف رات
زلفوں گھٹا میرے لب گلاب
آنکھیں شراب
غزلیں اور نظمیں کہتے کہتے
میں حسن اور عشق کے افسانوں میں
جکڑی گئی جکڑی گئی
اف ! کتنی طرح میں پکڑی گئی
میں پوچھوں ذرا
میں پوچھوں ذرا
آنکھوں میں شراب دِکھی سب کو
آکاش نہیں دیکھا کوئی
ساون بھادو تو دکھے مگر
کیا درد نہیں دیکھا کوئی
فن کی جِھلّی سی چادر میں
بُت چِھیلے گئے عریانی کے
تاگا تاگا کر کے، پوشاک اُتاری گئی
میرے جسم پہ فن کی مشق ہوئی
اور آرٹ کا نام کہتے کہتے
سنگِ مرمر میں جکڑی گئی
اُف ! کتنی طرح میں پکڑی گئی
بتلائے کوئی، بتلائے کوئی
کتنی گرہیں کھولی ہیں میں نے
کتنی گرہیں اب باقی ہیں
Comments
Post a Comment