Skip to main content

تاجر اور بندر - ﺍﺳﭩﺎﮎ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ


تاجر اور بندر

ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﮔﺎﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﯿﺎ ﺷﺨﺺ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ
ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﯾﮩﺎﺗﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﻨﺪﺭ 10 ﺭﻭﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪﮮ ﮔﺎ۔
ﺍﺱ ﮔﺎﻭﮞ ﮐﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﻨﺪﺭ ﺗﮭﮯ ، ﺳﻮ ﺩﯾﮩﺎﺗﯽ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ
ﮨﻮﺋﮯ ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﺎﻝ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ، ﮐﯿﻠﮯ ﺭﺳﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ
ﮐﺌﯽ ﻃﺮﯾﻘﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﺭ ﭘﮑﮍﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺌﮯ
ﺍﺱ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺑﻨﺪﺭ 10 ﺭﻭﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪﮮ ، ﺍﺏ ﺑﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﯽ
ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮐﺎﻓﯽ ﮐﻢ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ، ﭼﻨﺪ ﺍﯾﮏ ﺑﻨﺪﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﺗﮭﮯ ﺟﻨﮩﯿﮟ ﭘﮑﮍﻧﺎ
ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﯾﻮﮞ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ ﺍﻧﺪﮬﺎ ﺩﮬﻨﺪ ﻓﺎﺋﺮﻧﮓ ﻭﺍﻻ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺧﺘﻢ
ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﭨﺎﺭﮔﭩﮉ ﺁﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﯽ ﻧﻮﺑﺖ ﺁ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻭﮦ ﺑﻨﺪﺭ 20 ﺭﻭﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪﮮ ﮔﺎ ، ﺍﺱ ﺳﮯ
ﺩﯾﮩﺎﺗﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﯿﺎ ﺟﺰﺑﮧ ﻧﯿﺎ ﻭﻟﻮﻟﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ
ﭘﻮﺭﯼ ﻗﻮﺕ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﺭ ﭘﮑﮍﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺌﮯ
ﭼﻨﺪ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﺑﻨﺪﺭ ﺍﮐﺎ ﺩﮐﺎ ﮨﯽ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﺌﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﺎﺟﺮ
ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮮ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ 1300 ﺑﻨﺪﺭ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ۔
ﺟﺐ ﺗﺎﺟﺮ ﻧﮯ ﺑﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺧﺮﯾﺪﺍﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺳﺴﺘﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻓﯽ
ﺑﻨﺪﺭ ﻗﯿﻤﺖ ﭘﮩﻠﮯ 25 ﺭﻭﭘﮯ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﻗﯿﻤﺖ 50
ﺭﻭﭘﮯ ﮐﺮ ﺩﯼ۔ ﺍﺱ ﻗﯿﻤﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺻﺮﻑ 9 ﺑﻨﺪﺭ ﺧﺮﯾﺪﮮ ۔۔
ﺍﺏ ﺟﻮ ﺑﻨﺪﺭ ﺑﮭﯽ ﻧﮕﺎﮦ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺯﺩ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﺎ ، ﺩﺍﺧﻞ ﺯﻧﺪﺍﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ
ﺟﺎﺗﺎ
ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﺷﮩﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ
ﺍﺳﮑﺎ ﺍﺳﺴﭩﻨﭧ ﮐﺎﻡ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﻨﮯ ﻟﮕﺎ
ﺍﺳﮑﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﮯ ﺍﺳﺴﭩﻨﭧ ﻧﮯ ﺩﯾﮩﺎﺗﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ
ﮐﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ :
(ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻋﺰﯾﺰ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ) ﺍﺱ ﺑﮍﮮ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ 1450 ﺟﺎﻧﻮﺭ
ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﺟﻤﻊ ﮐﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ
ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ 35 ﺭﻭﭘﮯ ﻓﯽ ﺑﻨﺪﺭ ﮐﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﺑﯿﭻ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ، ﺟﺐ
ﻣﺎﺳﭩﺮ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﺳﮯ ﯾﮧ ﺑﻨﺪﺭ 50 ﺭﻭﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭻ ﺩﯾﻨﺎ۔
ﺩﯾﮩﺎﺗﯽ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺟﻤﻊ ﭘﻮﻧﺠﯽ ﺧﺮﭺ ﮐﺮ
ﮐﮯ ﺑﻨﺪﺭ ﺧﺮﯾﺪ ﻟﺌﮯ
ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺗﺎﺟﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﺳﮑﮯ ﺍﺳﺴﭩﻨﭧ
ﮐﻮ ، ﺑﺲ ﮨﺮ ﺟﮕﮧ ﺑﻨﺪﺭ ﮨﯽ ﺑﻨﺪﺭ ﺗﮭﮯ۔
۔
۔
ﺍﺳﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﭩﺎﮎ ﻣﺎﺭﮐﯿﭧ


Comments

Popular posts from this blog

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں راز کے گہرے پردوں میں ہر شخص محبت کرتا ہے حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں سب جھوٹے رشتے ناتے ہیں سب دل رکھنے کی باتیں ہیں سب اصلی روپ چھپاتے ہیں احساس سے خالی لوگ یہاں لفظوں کے تیر چلاتے ہیں ایک بار نظروں میں آکر وہ پھر ساری عمر رلاتے ہیں یہ عشق محبت مہر و وفا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہر شخص خودی کی مستی میں بس اپنی خاطر جیتا ہے بس اپنی خاطر جیتا ہے

تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

ایک بادشاہ نے چار آدمی طلب کئے ان میں سے ایک عالم تھا ، دوسرا عاشق تھا ، تیسرا نابینا تھا اور چوتھا غریب تھا ، بادشاہ نے ان چاروں سے کہا کہ میرے دماغ میں ایک مصرعہ آیا ہے تم لوگ اسکو مکمل کرو ، مصرعہ یہ ہے: ( اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں ) چاروں نے تھوڑا سوچ بچار کیا اور اپنے اپنے حساب سے شعر بنائے جو کچھ یوں تھے ۔ عالم : بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں عاشق : ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں نابینا : ہم میں بینائی نہیں اور اس میں گویائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں غریب : مانگتے پیسے مصور جیب میں پائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

سعادت حسن منٹو

زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزررہے ہیں ، اگر آپ اس سے ناواقف ہیں ،تو میرے افسانے پڑھئے ۔ اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ زمانہ ناقابلِ برداشت ہے۔ مجھ میں جو برائیاں ہیں،وہ اس عہد کی برائیاں ہیں ۔ میری تحریر میں کوئی نقص نہیں ، جس نقص کو میرے نام سے منسوب کیا جاتا ہے ، در اصل موجودہ نظام کا نقص ہے۔‘‘ " سعادت حسن منٹو"