Skip to main content

مری بات بیچ میں رہ گئی

‎تیرے اِرد گِرد وہ شور تھا، مِری بات بیچ میں رہ گئی
نہ میں کہہ سکا نہ تُو سُن سکا، مری بات بیچ میں رہ گئی

‎میرے دل کو درد سے بھر گیا، مجھے بے یقین سا کرگیا
تیرا بات بات پہ ٹوکنا، مری بات بیچ میں رہ گئی

‎ترے شہر میں مِرا ہم سفر، وہ دُکھوں کا جمّ ِغفیر تھا
مجھے راستہ نہیں مل سکا، مری بات بیچ میں رہ گئی

‎وہ جو خواب تھے مِرے سامنے، جو سراب تھے مِرے سامنے
میں اُنہی میں ایسے اُلجھ گیا، مری بات بیچ میں رہ گئی

‎عجب ایک چُپ سی لگی مجھے، اُسی ایک پَل کے حِصار میں
ہُوا جس گھڑی ترا سامنا، مری بات بیچ میں رہ گئی

‎کہیں بے کنار تھی خواہشیں، کہیں بے شمار تھی اُلجھنیں
کہیں آنسوؤں کا ہُجوم تھا، مری بات بیچ میں رہ گئی

‎تھا جو شور میری صداؤں کا، مِری نیم شب کی دعاؤں کا
ہُوا مُلتفت جو مِرا خدا، مری بات بیچ میں رہ گئی

‎تری کھڑکیوں پہ جُھکے ہوئے، کئی پھول تھے ہمیں دیکھتے
تری چھت پہ چاند ٹھہر گیا، مری بات بیچ میں رہ گئی

‎مری زندگی میں جو لوگ تھے، مِرے آس پاس سے اُٹھ گئے
میں تو رہ گیا اُنہیں روکتا، مری بات بیچ میں رہ گئی

تری بےرخی کے حِصار میں، غمِ زندگی کے فشار میں
مرا سارا وقت نکل گیا، مری بات بیچ میں رہ گئی

‎مجھے وہم تھا ترے سامنے، نہیں کھل سکے گی زباں مری
سو حقیقتاً بھی وہی ہوا، مری بات بیچ میں رہ گئی

امجد اسلام امجد-

Comments

Popular posts from this blog

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو کسے زندگی ہے عزیز اب، کسے آرزوئے شب طرب مگر اے نگار وفا طلب ترا اعتبار کوئی تو ہو کہیں تار دامن گل ملے تو یہ مان لیں کہ چمن کھلے کہ نشان فصل بہار کا سر شاخسار کوئی تو ہو یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سر کوئے یار کوئی تو ہو یہ سکون جاں کی گھڑی ڈھلے تو چراغ دل ہی نہ بجھ چلے وہ بلا سے ہو غم عشق یا غم روزگار کوئی تو ہو سر مقتل شب آرزو رہے کچھ تو عشق کی آبرو جو نہیں عدد تو فراز تو کہ نصیب دار کوئی تو ہو   احمد فراز 

تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

ایک بادشاہ نے چار آدمی طلب کئے ان میں سے ایک عالم تھا ، دوسرا عاشق تھا ، تیسرا نابینا تھا اور چوتھا غریب تھا ، بادشاہ نے ان چاروں سے کہا کہ میرے دماغ میں ایک مصرعہ آیا ہے تم لوگ اسکو مکمل کرو ، مصرعہ یہ ہے: ( اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں ) چاروں نے تھوڑا سوچ بچار کیا اور اپنے اپنے حساب سے شعر بنائے جو کچھ یوں تھے ۔ عالم : بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں عاشق : ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں نابینا : ہم میں بینائی نہیں اور اس میں گویائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں غریب : مانگتے پیسے مصور جیب میں پائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں راز کے گہرے پردوں میں ہر شخص محبت کرتا ہے حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں سب جھوٹے رشتے ناتے ہیں سب دل رکھنے کی باتیں ہیں سب اصلی روپ چھپاتے ہیں احساس سے خالی لوگ یہاں لفظوں کے تیر چلاتے ہیں ایک بار نظروں میں آکر وہ پھر ساری عمر رلاتے ہیں یہ عشق محبت مہر و وفا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہر شخص خودی کی مستی میں بس اپنی خاطر جیتا ہے بس اپنی خاطر جیتا ہے