Skip to main content

اردو

اردو ہے میرا نام میں “خسرو” کی پہیلی
 میں “میر” کی ہمراز ہوں “غالب” کی سہیلی
دکّن کے ولی نے مجھے گودی میں کھلایا
“سودا” کے قصیدوں نے میرا حسن بڑھایا
ہے “میر” کی عظمت کہ مجھے چلنا سکھایا

میں “داغ” کے آنگن میں کھلی بن کے چمیلی
 اردو ہے میرا نام میں “خسرو” کی پہیلی
“غالب” نے بلندی کا سفر مجھ کو سکھایا
“حالی” نے مرووت کا سبق یاد دلایا
“اقبال” نے آئینہ حق مجھ کو دکھایا

“مومن” نے سجائی میرے خوابوں کی حویلی
 اردو ہے میرا نام میں “خسرو” کی پہیلی
ہے “ذوق” کی عظمت کہ دیئے مجھ کو سہارے
“چکبست” کی الفت نے میرے خواب سنوارے
“فانی” نے سجاۓ میری پلکوں پہ ستارے
“اکبر” نے رچائی میری بے رنگ ہتھیلی
 اردو ہے میرا نام میں “خسرو” کی پہیلی

کیوں مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ
 دیکھا تھا کبھی میں نے بھی خوشیوں کا زمانہ
اپنے ہی وطن میں میں ہوں مگر آج اکیلی
 اردو ہے میرا نام میں “خسرو” کی پہیلی

Comments

Popular posts from this blog

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو کسے زندگی ہے عزیز اب، کسے آرزوئے شب طرب مگر اے نگار وفا طلب ترا اعتبار کوئی تو ہو کہیں تار دامن گل ملے تو یہ مان لیں کہ چمن کھلے کہ نشان فصل بہار کا سر شاخسار کوئی تو ہو یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سر کوئے یار کوئی تو ہو یہ سکون جاں کی گھڑی ڈھلے تو چراغ دل ہی نہ بجھ چلے وہ بلا سے ہو غم عشق یا غم روزگار کوئی تو ہو سر مقتل شب آرزو رہے کچھ تو عشق کی آبرو جو نہیں عدد تو فراز تو کہ نصیب دار کوئی تو ہو   احمد فراز 

تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

ایک بادشاہ نے چار آدمی طلب کئے ان میں سے ایک عالم تھا ، دوسرا عاشق تھا ، تیسرا نابینا تھا اور چوتھا غریب تھا ، بادشاہ نے ان چاروں سے کہا کہ میرے دماغ میں ایک مصرعہ آیا ہے تم لوگ اسکو مکمل کرو ، مصرعہ یہ ہے: ( اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں ) چاروں نے تھوڑا سوچ بچار کیا اور اپنے اپنے حساب سے شعر بنائے جو کچھ یوں تھے ۔ عالم : بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں عاشق : ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں نابینا : ہم میں بینائی نہیں اور اس میں گویائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں غریب : مانگتے پیسے مصور جیب میں پائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں راز کے گہرے پردوں میں ہر شخص محبت کرتا ہے حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں سب جھوٹے رشتے ناتے ہیں سب دل رکھنے کی باتیں ہیں سب اصلی روپ چھپاتے ہیں احساس سے خالی لوگ یہاں لفظوں کے تیر چلاتے ہیں ایک بار نظروں میں آکر وہ پھر ساری عمر رلاتے ہیں یہ عشق محبت مہر و وفا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہر شخص خودی کی مستی میں بس اپنی خاطر جیتا ہے بس اپنی خاطر جیتا ہے