Skip to main content

یہ سال بہتر ھو

مری دعا ھے عزیزو!! یہ سال بہتر ھو!

طبیعتیں بھی ھوں اچھی تو حال بہتر ھو!!
مری دعا ھے عزیزو!! یہ سال بہتر ھو!!

نئی رتوں کے مہینے تمھیں مبارک ھوں!!
بلندیوں کے یہ زینے تمھیں مبارک ھوں!!
 چلن تمہارا ھو اچھا تو چال بہتر ھو!!
مری دعا ھے عزیزو!! یہ سال بہتر ھو!!

بہار آئے تو یارو!! سدا قیام کرے!!
خزاں چمن سے جو گزرے تو بس سلام کرے!!
تپش رھے، رھے سردی، سنبھال بہتر ھو!!
مری دعا ھے عزیزو!! یہ سال بہتر ھو!!

شعاعیں شرق سے آئیں، تمہیں بیدار کریں!!
اندھیرے غرب سے اٹھیں، تمہیں تیار کریں!!
جنوب سے ھو تحفظ، شمال بہتر ھو!!
مری دعا ھے عزیزو!! یہ سال بہتر ھو!!

ھر ایک ھفتے میں ساتوں دنوں سکون رھے!!
وہ جنوری ھو دسمبر ھو یا وہ جون رھے!!
ھاں موسموں کاابھرتا جلال بہتر ھو!!
مری دعا ھے عزیزو!! یہ سال بہتر ھو!!

اگر مئی کی حرارت تمہیں نہال کرے،
یا پھر اگست میں حبس آئے، تمہیں نڈھال کرے،
خدا کرے کہ تنفس بحال بہتر ھو!!
مری دعا ھے عزیزو!! یہ سال بہتر ھو!!

قدم قدم پہ وہ خوشیاں تمہیں نصیب کرے!!
وہ اپنی رحمت و شفقت بہت قریب کرے!!
خدا کرے کہ مرا یہ خیال بہتر ھو!!
مری دعا ھے عزیزو!! یہ سال بہتر ھو!!

Comments

Popular posts from this blog

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں راز کے گہرے پردوں میں ہر شخص محبت کرتا ہے حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں سب جھوٹے رشتے ناتے ہیں سب دل رکھنے کی باتیں ہیں سب اصلی روپ چھپاتے ہیں احساس سے خالی لوگ یہاں لفظوں کے تیر چلاتے ہیں ایک بار نظروں میں آکر وہ پھر ساری عمر رلاتے ہیں یہ عشق محبت مہر و وفا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہر شخص خودی کی مستی میں بس اپنی خاطر جیتا ہے بس اپنی خاطر جیتا ہے

تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

ایک بادشاہ نے چار آدمی طلب کئے ان میں سے ایک عالم تھا ، دوسرا عاشق تھا ، تیسرا نابینا تھا اور چوتھا غریب تھا ، بادشاہ نے ان چاروں سے کہا کہ میرے دماغ میں ایک مصرعہ آیا ہے تم لوگ اسکو مکمل کرو ، مصرعہ یہ ہے: ( اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں ) چاروں نے تھوڑا سوچ بچار کیا اور اپنے اپنے حساب سے شعر بنائے جو کچھ یوں تھے ۔ عالم : بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں عاشق : ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں نابینا : ہم میں بینائی نہیں اور اس میں گویائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں غریب : مانگتے پیسے مصور جیب میں پائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

سعادت حسن منٹو

زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزررہے ہیں ، اگر آپ اس سے ناواقف ہیں ،تو میرے افسانے پڑھئے ۔ اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ زمانہ ناقابلِ برداشت ہے۔ مجھ میں جو برائیاں ہیں،وہ اس عہد کی برائیاں ہیں ۔ میری تحریر میں کوئی نقص نہیں ، جس نقص کو میرے نام سے منسوب کیا جاتا ہے ، در اصل موجودہ نظام کا نقص ہے۔‘‘ " سعادت حسن منٹو"