Skip to main content

عادل جج اور نیک حکمران

تمام وزیر میدان میں تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے ۔سلطان غیاث الدین بھی ان کے ساتھ شریک تھا ۔
.
 اچانک سلطان کا نشانہ خطا ہوگیا اور وہ تیر ایک بیوہ عورت کے بچے کو جا لگا۔ اس سے وہ مرگیا۔ سلطان کو پتہ نہ چل سکا۔ وہ عورت قاضی سلطان کی عدالت میں پہنچ گئی۔
.
 قاضی سراج الدین  عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا:
'' کیا بات ہے ؟ تم کیوں رو رہی ہو؟ "
عورت نے روتے ہوئے سلطان کے خلاف شکایت لکھوائی،
''سلطان کے تیر سے میرابچہ ہلاک ہوگیا ہے.''
قاضی سراج الدین نے عورت کی بات پوری توجہ سے سنی اور پھر اسی وقت سلطان کے نام خط لکھا:
''آپ کے خلاف شکایت آئی ہے۔ فوراً عدالت میں حاضر ہو جائیں اور اپنے خلاف آنے والی شکایت کا جواب دیں.''
پھر یہ حکم عدالت کے ایک پیادے کو دے کر ہدایت کی: '' یہ حکم نامہ فوراً سلطان کے پاس لے جاؤ!"
پیادے کو یہ حکم دے کر قاضی سراج الدین نے ایک کَوڑا نکالا اور اپنی گدی کے نیچے چھپا دیا۔
پیادہ جب سلطان کے محل میں پہنچا تو اس دیکھا کہ سلطان کو درباریوں نے گھیر رکھا ہے اور قاضی کا حکم نامی سلطان تک پہنچانا مشکل ہے۔ یہ دیکھ کر پیادہ نے اونچی آواز میں اذان دینا شروع کر دی۔
بے وقت اذان سن کر سلطان نے حکم دیا:
''اذان دینے والے کو میرے سامنے پیش کرو."
پیادے کو سلطان کے سامنے پیش کیا گیا۔
سلطان نے گرج کر پوچھا:
''بے وقت اذان کیوں دے رہے تھے.''
'' قاضی سراج الدین نے آپ کو عدالت میں طلب کیا ہے آپ فوراً میرے ساتھ عدالت چلیں.
'' پیادے نے قاضی صاحب کا حکم نامہ سلطان کو دیتے ہوئے کہا۔
سلطان فوراً اُٹھا۔ ایک چھوٹی سی تلوار اپنی آستین میں چھپالی ۔ پھر پیادے کے ساتھ عدالت پہنچا۔ قاضی صاحب نے بیٹھے بیٹھے مقتول کی ماں اور سلطان کے بیان باری باری سنے پھر فیصلہ سنایا:
'' غلطی سے ہو جانے والے قتل کی وجہ سے سلطان پر کفارہ اور اس کی برادری پر خون کی دیت آئے گی ۔ ہاں اگر مقتول کی ماں مال کی کچھ مقدار پر راضی ہو جائے تو اس مال کے بدلے سلطان کو چھوڑا جا سکتا ہے ''۔
سلطان نے لڑکے کی ماں کو بہت سے مال پر راضی کر لیا پھر قاضی سے کہا :
'' میں نے لڑکے کی ماں کو مال پر راضی کر لیا ہے '' قاضی نے عورت سے پوچھا :
'' کیا آپ راضی ہو گئیں.''
'' جی ہاں میں راضی ہو گئی ہوں '' عورت نے قاضی کو جواب دیا ۔
اب قاضی اپنی جگہ سے سلطان کی تعظیم کے لئے اٹھے اور انھیں اپنی جگہ پر بٹھایا۔ سلطان نے بغل سے تلوار نکال کر قاضی سراج الدین کو دیکھاتے ہوئے کہا:
'' اگر آپ میری ذرا سی بھی رعایت کرتے تو میں اس تلوار سے آپ کی گردن اڑا دیتا.''
قاضی نے بھی اپنی گدی کے نیچے سے کَوڑا نکال کر سلطان غیاث الدین کو دکھاتے ہوئے کہا:
'' اور اگر آپ شریعت کا حکم ماننے سے ذرا بھی ہچکچاتے تو میں اس کَوڑے سے آپ کی خبر لیتا۔ بےشک یہ ہم دونوں کا امتحان تھا.''
ایسے بھی حکمران تھے اور ایسے عادل منصفین تھے۔ اللہ تعالیٰ ہم کو ایسے عادل جج اور نیک حکمران عطا فرمائے ۔

Comments

Popular posts from this blog

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو

نہ حریف جاں نہ شریک غم شب انتظار کوئی تو ہو کسے بزم شوق میں لائیں ہم دل بے قرار کوئی تو ہو کسے زندگی ہے عزیز اب، کسے آرزوئے شب طرب مگر اے نگار وفا طلب ترا اعتبار کوئی تو ہو کہیں تار دامن گل ملے تو یہ مان لیں کہ چمن کھلے کہ نشان فصل بہار کا سر شاخسار کوئی تو ہو یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سر کوئے یار کوئی تو ہو یہ سکون جاں کی گھڑی ڈھلے تو چراغ دل ہی نہ بجھ چلے وہ بلا سے ہو غم عشق یا غم روزگار کوئی تو ہو سر مقتل شب آرزو رہے کچھ تو عشق کی آبرو جو نہیں عدد تو فراز تو کہ نصیب دار کوئی تو ہو   احمد فراز 

تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

ایک بادشاہ نے چار آدمی طلب کئے ان میں سے ایک عالم تھا ، دوسرا عاشق تھا ، تیسرا نابینا تھا اور چوتھا غریب تھا ، بادشاہ نے ان چاروں سے کہا کہ میرے دماغ میں ایک مصرعہ آیا ہے تم لوگ اسکو مکمل کرو ، مصرعہ یہ ہے: ( اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں ) چاروں نے تھوڑا سوچ بچار کیا اور اپنے اپنے حساب سے شعر بنائے جو کچھ یوں تھے ۔ عالم : بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں عاشق : ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں نابینا : ہم میں بینائی نہیں اور اس میں گویائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں غریب : مانگتے پیسے مصور جیب میں پائی نہیں اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں

الفاظ کے جھوٹے بندھن میں راز کے گہرے پردوں میں ہر شخص محبت کرتا ہے حالانکہ محبت کچھ بھی نہیں سب جھوٹے رشتے ناتے ہیں سب دل رکھنے کی باتیں ہیں سب اصلی روپ چھپاتے ہیں احساس سے خالی لوگ یہاں لفظوں کے تیر چلاتے ہیں ایک بار نظروں میں آکر وہ پھر ساری عمر رلاتے ہیں یہ عشق محبت مہر و وفا یہ سب کہنے کی باتیں ہیں ہر شخص خودی کی مستی میں بس اپنی خاطر جیتا ہے بس اپنی خاطر جیتا ہے